امریکا نے کوئی ایکشن لیا تو ردعمل ہو گا، پاکستانی موقف | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا نے کوئی ایکشن لیا تو ردعمل ہو گا، پاکستانی موقف

پاکستانی فوج کے مطابق امریکا کی جانب سے اگر پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی یا کوئی قدم اٹھایا گیا، تو اس کا ردعمل بھی ہو گا۔ یہ بات امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق بہت تنقیدی ٹویٹ کے تناظر میں کہی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد واشنگٹن  کے ساتھ اپنا تعاون برقرار رکھنا چاہتا ہے تاہم قومی مفادات اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے اگر پاکستان کے خلاف کوئی ’ایکشن‘ کیا گیا، تو اس کا ایک ردعمل بھی ہو گام جو پاکستانی عوام کی خواہشات کے مطابق ہو گا۔

میجر جنرل غفور نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور امریکا اتحادی ہیں اور ’اتحادی آپس میں لڑتے نہیں‘۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کتنا مؤثر معاون اور مددگار رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ کے بقول پاکستانی فوج نے طالبان کے اتحادی دھڑے حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں، جن کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ہی سامنے آئیں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے پہلے روز پاکستان سے متعلق اپنی ایک بہت ہی تنقیدی ٹویٹ میں کہا تھا کہ امریکا کو سالہا سال تک پاکستان سے اربوں ڈالر کی امداد کے عوض محض ’جھوٹ اور دھوکا‘ ہی ملا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ٹویٹ میں ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ پاکستان کے لیے امداد بند بھی کی جا سکتی ہے۔

پاکستان اور امریکا کے مابین اس حالیہ تناؤ کے تناظر میں ہی پاکستانی وزیر دفاع خرم دستگیر نے آج جمعرات چار جنوری کو اپنے ایک بیان میں کہا، ’’اس بارے میں کسی کو بھی کسی قسم کا کوئی خوف یا شبہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔‘‘

خرم دستگیر نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس حوالے سے ٹھنڈے دماغ سے اپنی حکمت عملی تیار کرنا ہو گی، اور اس کے لیے امریکا میں پائی جانے والی دونوں طرح کی رائے کا بغور جائزہ بھی لینا ہو گا۔

امریکا کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ایک طرف تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا قریبی اتحادی ہے، تاہم دوسری طرف وہ پس پردہ افغانستان میں مقامی اور غیرملکی دستوں پر حملوں میں ملوث عسکری گروہوں کی معاونت بھی کرتا ہے۔

پاکستان تاہم ان الزامات کو سرے سے مسترد کرتا آیا ہے اور اس کا شروع سے ہی موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک خود اس کے اپنے ہزارہا فوجی اور عام شہری بھی مارے جا چکے ہیں اور پاکستانی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

DW.COM