1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا نے جنوبی شام میں موبائل آرٹلری راکٹ لانچرز نصب کر دیے

امریکا نے جنوبی شام میں اپنے ایک فوجی اڈے کی حفاظت کے لیے الطنف کے علاقے میں اپنے موبائل آرٹلری راکٹ لانچرز نصب کر دیے ہیں۔ اس فوجی اڈے پر امریکی دستے شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کو تربیت دیتے ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جمعہ سولہ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حکام نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ملکی فورسز نے برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے جنوب میں الطنف کے علاقے میں اپنے ایک اڈے پر اب ایسا جدید موبائل توپ خانہ بھی نصب کر دیا ہے، جو راکٹوں سے حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

عسکری اصطلاح میں اس قابل انتقال توپ خانے کو ’ہیمارس‘ کہتے ہیں۔ پینٹاگون کے حکام نے جمعرات پندرہ جون کی شام بتایا کہ یہ دراصل ایک ایسا راکٹ سسٹم ہے، جس کی مدد سے بڑے بڑے فوجی ٹرکوں سے بیک وقت بہت سے راکٹ فائر کیے جا سکتے ہیں۔

عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کا اعلیٰ کمانڈر ہلاک

شام میں لاشوں کو جلایا جا رہا ہے، امریکی وزارت خارجہ

’اسد‘ امریکا اور روسی تعلقات میں ہڈی بن گئے

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ پینٹاگون نے یہ تصدیق تو کر دی ہے کہ ایک جگہ سے آسانی سے دوسری جگہ منتقل کیے جا سکنے والے اس راکٹ لانچنگ سسٹم کو جنوبی شام میں پہنچا دیا گیا ہے تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ایسے کتنے HIMARS یونٹ اب شام منتقل کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا نے جنگ زدہ شام کے اس علاقے میں یہ موبائل آرٹلری راکٹ سسٹم اس حالیہ پیش رفت کے کچھ ہی عرصے بعد پہنچایا ہے، جس میں شامی صدر بشار الاسد کے حامی فوجی دستے الطنف کے پاس ایک ایسے خطے میں داخل ہو گئے تھے، جسے بظاہر تصادم سے بچنے کے لیے ایک غیر متنازعہ علاقہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

امریکی عسکری ماہرین کے مطابق شام کے جنوب میں ملکی سرحد کے قریب یہ پیش رفت اس لیے ایک نیا خطرہ تھی کہ یوں دمشق حکومت کی فوجیں الطنف میں اس امریکی فوجی اڈے کے قدرے قریب آ گئی تھیں۔

بشار الاسد کا حال قذافی جیسا ہو گا، مقتدیٰ الصدر کا انتباہ

شام کے بیس فیصد جیٹ طیارے تباہ کر دیے گئے، امریکی وزیر دفاع

اس امریکی فوجی پیش رفت پر شامی صدر اسد کے انتہائی اہم حلیف روس نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ امریکا اپنے یہ ’ہیمارس‘ راکٹ سسٹم شامی حکومکت کی فوجوں پر حملوں کے لیے استعمال کرے گا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا ’ہیمارس‘ راکٹ سسٹم کو اس لیے اتنی اہمیت دے رہا ہے کہ اس کے ذریعے بہت خراب موسم میں اس وقت بھی جملہ اہداف کو بڑی کامیابی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جب مطلع صاف نہ ہو اور حالات ہوائی حملوں کے لیے سازگار نہ ہوں۔

DW.COM