1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا: نیوی کمانڈر پھر بھروسہ نہیں رہا

امریکی حکام کے بقول انہوں نے نیوی کے اُس کمانڈر کو برطرف کر دیا ہے، جسے ایرانی حکام نے کچھ دیر کے لیے اپنی تحویل میں رکھا تھا۔ یہ کمانڈر اپنے دس سیلرز کے ساتھ رواں برس جنوری میں غلطی سے ایرانی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

امریکی نیوی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ کمانڈر ایرک ریش اور ان کے دس سیلرز ایرانی حدود کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایرانی حکام نے کمانڈر ریش سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔ اس بیان کے مطابق اس واقعے کے بعد کمانڈر ریش اپنا بھروسہ کھو چکے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مشرق وسطٰی میں امریکی نیوی کے کمانڈر نے بھی سیلرز کے خلاف ایک غیر عدالتی کارروائی شروع کی تھی تاہم انہوں نے روئٹرز کو اس تناظر میں مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔

رواں برس جنوری میں امریکی نیوی کی دو کشتیاں نیوی گیشن خراب ہونے کی وجہ سے ایرانی حدود میں داخل ہو گئی تھیں۔ جس پر ایران کے پاسداران انقلاب نے کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو حراست میں میں لے لیا تھا۔ اس واقعے پر ایران نے امریکا سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں حکومتوں کے مابین رابطے بھی ہوئے تھے۔ ان فوجیوں کی رہائی کے بعد امریکا میں ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی بھی کی گئی تھی۔ تاہم نیوی کی جانب سے ابھی تک اس تفتیش کے نتائج عام نہیں کیے گئے ہیں۔

فروری میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ بارہ جنوری کو ایک کشتی کے ڈیزل انجن میں کچھ خرابی پیدا ہوئی تھی، جس کی وجہ سے یہ کشتیاں ایرانی حدود میں داخل ہو گئی تھیں۔ ایرانی حکام نے پندرہ گھنٹوں بعد ان افراد کو رہا کر دیا تھا۔ اس دوران امریکی فوجیوں کے دو سیٹیلائٹ فونز کے سم کارڈ بھی تہران نے اپنے پاس رکھ لیے تھے۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے مابین سفارتی کشیدگی شدید ہو گئی تھی اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے مابین ہونے والی بات چیت کے بعد یہ معاملہ حل ہوا تھا۔