1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکا میں منشیات کی زیادتی کے باعث ہلاکتوں میں تین گنا اضافہ

امریکا میں 2010ء سے 2014ء کے دوران ہیروئین کے نشے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں تین گنا جبکہ دوسری نشہ آور منشیات کے استعمال سے ہلاکتوں کی تعداد میں تقریبا دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

امریکا کی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال امریکا میں ٹریفک حادثات سے زیادہ منشیات کے استعمال کی زیادتی سے ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ ڈی ای اے کے ایڈمنسٹریٹر چک روزنبرگ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہیروئین اور افیون سے تیار کردہ منشیات کے استعمال سے خوفناک حد تک ہلاکتیں اور تباہی دیکھنے میں آرہی ہے۔‘‘ امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ نے بھی ہیروئین اور افیون سے تیار کردہ منشیات کے استعمال کی عادت کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خبر رساں ایجسنی اے ایف پی نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سن 2014 میں لگ بھگ پانچ لاکھ افراد ہیروئین کے نشے کے عادی تھے جبکہ اسی برس ہیروئین اور افیون سے تیار کردہ منشیات کے استعمال کے باعث سولہ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ افیون سے تیار کردہ منشیات کی کئی اقسام ہیں جیسے اوکسی کوڈون، ہائیڈروکوڈون اور میتھاڈون اور ان کے استعمال کی زیادتی اکثر افراد کو ہیروئین کے نشے کی طرف لے جاتی ہے۔ ڈی ای اے کے مطابق نشے کی عادت تشدد اور جرائم کا بھی سبب بنتی ہے۔

ہیروئین کے نشے کی زیادتی کے باعث سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا کی وسطی ریاستوں میں ہوئیں ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کانگریس سے امریکا میں نشے کے عادی افراد کے علاج کے لیے 1.1 ارب ڈالر مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور امریکی ریاست وسکونسن کے اعلیٰ اہلکاروں کو اس موضوع پر رپورٹرز کے ساتھ ایک کانفرنس کال پر مدعو بھی کیا۔ واضح رہے کہ کانگریس کے اسپیکر پال رائن کا تعلق وسکونسن سے ہی ہے اور وہ وائٹ ہاؤس کو انسداد منشیات کے لیے فنڈنگ کی منظوری دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Grenze zwischen Mexiko und den USA

امریکا میں سن 2014 میں لگ بھگ پانچ لاکھ افراد ہیروئین کے نشے کے عادی تھے

وسکونسن کے سب سے بڑے شہر ملواکی کے مئیر ٹام بیرٹ کا کہنا ہے، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ اگر ہم نشے کا عادی ہوجانے سے قبل ہی ان افراد سے رابطہ کرلیں تو ہم صورتحال کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔‘‘ اکثر اوقات نشے کے عادی افراد کا علاج اس لیے بھی ممکن نہیں ہوتا کیوںکہ ان کے علاج کے لیے بہت کم تعداد میں سینٹرز بنائے گئے ہیں۔ اور اگر کسی سنٹر میں علاج کی سہولت میسر بھی ہو تو مریض انتہائی مہنگا علاج کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور صحت کی انشورنس کمپنیاں اکثر نشے کی عادت کےعلاج کا خرچہ برداشت نہیں کرتیں۔

ملواکی کے پولیس چیف بریڈلی ویٹلانٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ایک ایسے خاندان کو جانتے ہیں، جنہوں نے اپنے نشے کے عادی بیٹے کے علاج کے لیے اپنی تمام بچت کو وقف کر دیا ہے۔

DW.COM