1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا میں مقیم مسلمانوں کی نگرانی ضروری ہے، ٹرمپ

ریپبلکن صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کے لیے ایک خصوصی اور لازمی ڈیٹابیس بنانے کی حمایت کرتے ہیں۔

ریپلکن جماعت کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ٹرمپ اس سے قبل بھی مسلمانوں، خواتین اور اقلیتوں سے متعلق متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکا میں مہاجرین کو پناہ دینے کے حکومتی منصوبے کی بھی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

ایک امریکی نشریاتی ادارے این بی سی سے بات چیت میں ٹرمپ نے کہا، ’’میں پوری طرح اس کے حق میں ہوں کہ اس پر عمل درآمد ہونا چاہے۔ ہر حال میں۔‘‘

اپنی صدارتی مہم کے دوران جمعرات کے روز لووا ریاست کے علاقے نیوٹن میں این بی سی کے ایک رپورٹر سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا، ’’مسلمانوں کو مختلف مقامات پر اپنی کوائف درج کرانے چاہیئں۔ کیوں کہ انتظام کے لیے یہ ضروری ہے۔‘‘

Republikaner USA Wahlkampf Donald Trump

ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد متنازعہ بیانات دے چکے ہیں

جب ان سے رپورٹر نے کہا کہ کیا مسلمانوں کے لیے ایسا کرنا لازمی ہو گا، تو ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ہر حال میں ایسا کرنا ہو گا۔

ٹرمپ اور ان کے ساتھ ساتھ سخت ترین موقف کے حامل ریٹائرڈ نیوروسرجن بین کارسن کی ریپلکن کیمپ سے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شمولیت اور دیگر امیدواروں کے مقابلے میں مقبولیت کے اعتبار سے بعض سروے رپورٹوں کے مطابق سب سے آگے ہونے نے سیاسی دنیا کو ایک طرح سے دم بہ خود کر کے رکھ دیا ہے۔ ریپبلکنز جماعت کی پرائمریز میں تین ماہ سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے اور ایسے میں یہ دنوں امیدوار دیگر سیاست دانوں کے مقابلے میں خاصے آگے دکھائی دے رہے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ متنازعہ بیان پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی چند ہی روز بعد سامنے آیا ہے اور اسی تناظر میں امریکا میں اب یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ شامی مہاجرین کو پناہ دی جانا چاہیے یا نہیں اور اس سلسلے میں صدر اوباما کو ریپبلکن سیاست دانوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

چند ریپبلکن قانون سازوں نے صدر اوباما کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے کہ شام کے مسیحی مہاجرین کو مسلم مہاجرین پر ترجیح دی جانا چاہیے، تاہم ٹرمپ اس سلسلے میں ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کو دستیاب شہری حقوق اور آزادیوں کو محدود کیا جانا چاہیے جب کہ مسلمانوں کی سرگرمیوں کی نگرانی ہونا چاہیے جس میں مساجد کے اندر کی نگرانی بھی شامل ہے۔

رواں ہفتے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ملک ایک ایسی سمت میں جا رہا ہے، جہاں ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچے گا، سوائے اس کے کہ کچھ مساجد کو بند کر دیا جائے۔ کیوں کہ بہت سی بری چیزیں ہو رہی ہیں اور بہت تیزی سے ہو رہی ہیں۔‘‘

جمعرات کے روز یاہو نیوز نے ٹرمپ کے ساتھ ایک انٹرویو کے حوالے سے یہ خیال شائع کیا تھا، جس میں اس ارب پتی سیاست دان کا کہنا تھا کہ امریکا میں بسنے والے مسلمانوں کے کوائف کا الگ سے اندراج ضروری ہے اور انہیں ایک خصوصی کارڈ جاری کیا جانا چاہیے، جس پر ان کا مذہب درج ہونا چاہیے۔

یاہو نیوز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا، ’’ہمیں بہت سی چیزوں کو باریکی سے دیکھنا ہو گا، جن میں مسلمانوں کے گھروں کی وارنٹ کے بغیر تلاشی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ہمیں بہت سے ایسے کام کرنا ہوں گے، جو اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں کیے۔‘‘