1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’امریکا میں سی فوڈ شمالی کوریا سے جاتا ہے‘

امریکی عوام جو سی فوڈ شب کے کھانے میں استعمال کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر شمالی کوریا کی حکومت کو سرمایے کی فراہمی کا باعث بنتا ہے۔ پیونگ یانگ حکومت جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے بڑے حکومتی اخراجات کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیونگ یانگ حکومت جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے اور اس کے لیے ملکی وسائل کا بڑا حصہ خرچ کر رہی ہے، غالباﹰ امریکا کو برآمد کیے جانے والے سی فوڈ سے بھی سرمایہ حاصل کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا سے برآمد کی جانے والی مچھلیاں اور دیگر سی فوڈ ممکنہ طور پر وہاں جبری مشقت کو بھی شہ دینے کے مترادف ہے۔

کیا واقعی امریکا خوابوں کی سر زمین ہے؟

بنکاک میں شدید گرمی: چڑیا گھر کے جانوروں کے لیے فروزن فوڈ

’کیا دلی کیا لاہور‘

ایک ایسے وقت میں جب شمالی کوریا پر شدید ترین عالمی پابندیاں نافذ ہیں اور اس ملک کی تقریباﹰ تمام تر برآمدات ممنوع قرار دی جا چکی ہیں، یہ ملک اپنی شہریوں کو بہ طور مزدور دنیا بھر میں بھیج کر دو سو ملین سے پانچ سو ملین ڈالر سالانہ سرمایہ حاصل کر رہا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ سرمایہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے میں کلیدی نوعیت کا حاصل ہو سکتا ہے۔ جنوبی کوریا کے مطابق پیونگ یانگ حکومت اس مد میں قریب ایک ارب ڈالر خرچ کی رہی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق مزدوروں کے علاوہ علاوہ شمالی کوریا سے کچھ مصنوعات بھی امریکا اور دیگر ممالک میں پہنچ رہی ہیں۔ اس خبر رساں ادارے نے شمالی کوریا کے مزدوروں کی جانب سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی کینیڈا، جرمنی اور یورپی یونین کی چند دیگر ریاستوں میں بھی موجودگی کا پتا چلایا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:56

دنیا کی سب سے بڑی ’فوڈ فائٹ‘

اس تحقیقاتی رپورٹ کے جواب میں امریکی قانون سازوں کی جانب سے بدھ کے روز کہا گیا ہے کہ امریکا کو ہر حال میں شمالی کوریائی مصنوعات کو مارکیٹ سے باہر رکھنا چاہیے، جب کہ چینی حکومت کو شمالی کوریا مزدوں کو اپنے ملک میں جگہ نہیں دینا چاہیے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر چک شُومر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو اس سلسلے میں چین پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہیے کہ وہ شمالی کوریا سے کی جانے والی تجارت کو روکے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic