1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

امریکا میں دہشت گردی کا منصوبہ، ازبک مہاجر کو لمبی سزا

امریکی ریاست آئیڈاہو میں دہشت گردانہ حملے، فوجیوں اور عام شہریوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے کے الزام میں ایک ازبک مہاجر کو 25 برس قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

اس مجرم نے سزا کے خلاف اپیل نہ کرنے اور اس کے بدلے میں یوٹا ریاست میں بم سازی کی کوشش کا الزام ختم کے معاہدے کے تحت سزا پر اتفاق کیا تھا۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق اس مجرم نے اعتراف کیا کہ وہ امریکی فوجیوں اور عام شہریوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

مجرم اور استغاثہ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت فضل دین قربانوف کو دی گئی سزا کو حکومتی وکیل چیلنج نہیں کریں گے۔

ایک وفاقی جج نے جنوری میں قربانوف کو سزا سنائی تھی۔ گزشتہ برس اگست میں قربانوف نے اقبال جرم کیا تھا۔ مجرم کے مطابق وہ ایک دہشت گرد تنظیم کی معاونت کر رہا تھا اور اس کے قبضے سے بم سازی کے لیے ضروری سامان بھی برآمد ہوا تھا۔

مئی 2013ء میں یوٹا ریاست کی جیوری کے سامنے قربانوف کو دیسی ساخت کا بم بنانے اور اس کے استعمال کا منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت پیش کیا گیا تھا۔ قربانوف کو اگر بم سازی کے الزام پر بھی سزا دی جاتی تو اس کی 25 سالہ سزا میں مزید 20 برس شامل ہو سکتے تھے۔

یہ مقدمہ سماعت آئیڈاہو میں منتقل ہونے کی وجہ سے کسی حد تک تاخیر کا شکار رہا ہے۔

قربانوف کے وکیل نے اپنے موکل کو دی جانے والی سزا پر تبصرہ کرنے سے احتراز کیا ہے۔ تاہم وفاقی وکیل استغاثہ کا کہنا ہے کہ قربانوف نے ایک واضح منصوبہ بنایا تھا، جس کے تحت وہ ایک فوجی اڈے پر حملہ یا امریکا کے یومِ آزادی یعنی چار جولائی کو زیادہ سے زیادہ افراد کو قتل کرنا چاہتا تھا

حکومتی وکیل کے مطابق قربانوف نے ایف بی آئی سے تعلق رکھنے والے ذریعے کو اپنا منصوبہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نیویارک کی ویسٹ پوائنٹ فوجی اکیڈمی کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔