1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا میں داعش کے حامی ماہن خان پر فردِ جرم عائد

امریکا میں داعش کے ایک حامی ماہن خان پر، جس کی عمر اٹھارہ برس ہے، فینکس کے علاقے میں بموں اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ ایک اسٹیٹ موٹر وہیکل آفس پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

US-Polizisten (Symbolbild)

ماہن خان جس شخص کے ساتھ رابطے میں تھا، اُس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ آیا وہ ایف بی آئی ہی کا کوئی مخبر تھا

نیوز ایجنسی روئٹرز نے امریکی شہر فینکس سے استغاثہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ فردِ جرم جمعرات سات جولائی کو ایریزونا کی ایک گرینڈ جیوری کی جانب سے عائد کی گئی۔
ماہن خان کا تعلق شہر توسون سے ہے اور اُسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے یکم جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ جیسا کہ ایریزونا کے اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، یہ ایجنسی پہلے ہی ماہن خان کے خلاف تحقیقات جاری رکھے ہوئی تھی کیونکہ مختلف شہریوں کی جانب سے اُس کی مشکوک حرکات کی شکایت کی گئی تھی۔
اس فردِ جرم میں ماہن خان پر عائد کیے گئے تین بڑے الزامات میں دہشت گردی اور دہشت گردانہ حملے کی سازش تیار کرنے کے ساتھ ساتھ یہ الزام بھی شامل ہے کہ وہ ہتھیاروں کے ساتھ ایک دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا تھا۔
اٹارنی جنرل کی خاتون ترجمان مِیا گارسیا نے بتایا کہ اگر مقدمے کی کارروائی کے دورزان یہ الزامات ثابت ہوگئے تو ماہن خان کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ چَودہ جولائی کو ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران یہ فردِ جرم تفصیل کے ساتھ پڑھ کر سنائی جائے گی۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق ماہن خان کے خلاف الزامات اُن تحقیقات کی روشنی میں عائد کیے گئے ہیں، جو ایف بی آئی اور دیگر ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے کی جا رہی تھیں اور جن میں یہ پتہ چلا تھا کہ ماہن خان ایک ایسے شخص کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جس کے بارے میں اُس کا خیال ہے کہ وہ ایک پاکستانی شہری ہے اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا ایک جنگجو ہے۔ استغاثہ نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ آیا وہ ایف بی آئی ہی کا کوئی مخبر یا درپردہ ایجنٹ تھا۔

Symbolbild Polizei Police

شہریوں کی جانب سے مشکوک حرکات کی شکایات کے بعد ماہن خان کو یکم جولائی کو گرفتار کیا تھا

تحقیقاتی اداروں کو پتہ چلا کہ اپنے ان روابط کے دوران ماہن خان نے خود کو ایک ایسا ’امریکی جہادی‘ قرار دیا تھا، جو داعش کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس نے ’پائپ بموں اور پریشر کُکر بموں سمیت دیگر ہتھیاروں کے حصول‘ کی خواہش ظاہر کی تھی اور ساتھ ہی یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ میریکوپا کاؤنٹی میں موٹر وہیکل ڈویژن آفس کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ماہن خان نے کسی وقت یہ بھی کہا تھا کہ وہ رہا ہونے کی صورت میں فرار ہو کر شام یا پھر پاکستان چلا جائے گا۔