امریکا میں اوسط عمر میں کمی کا رحجان جاری | صحت | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

امریکا میں اوسط عمر میں کمی کا رحجان جاری

امریکا میں اعداد و شمار کے مطابق انسانی اوسط عمر میں کمی کا رجحان گزشتہ دو برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہٴ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے۔

سن 1960 کے بعد امریکا میں سن 2015 اور سن 2016 کے دوران اوسط انسانی عمر میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی ادارہ برائے تحفظ بیماری کے مطابق اس کی ایک بنیادی وجہ افیون سے تیار کی جانے والی منشیات کے استعمال میں اضافہ ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکا میں سن 1962 اور سن 1963 میں بھی اوسط انسانی عمر میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

خیبر ایجنسی: زعفران کے ذریعے منشیات کی پیداوار کے خلاف جنگ

منشیات کے نتیجے میں بڑھتی اموات پر تشویش، نئی یورپی رپورٹ

ایران میں منشیات کی اسمگلنگ کے قوانین میں نرمی

بھارتی پنجاب: منشیات لو، ووٹ دو

علاوہ ازیں سن 1920 میں بھی اوسط انسانی عمر میں کمی کے رجحان نے امریکا کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ سماجی و سیاسی محققین نے تقریباً ایک سو برس قبل اوسط عمر میں کمی کے رجحان کو بیماریوں کے علاوہ عالمی جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کے ساتھ جوڑا تھا۔

امریکا میں سن 2015 کے دوران اوسط انسانی عمر 78.7 برس رہی جب کہ سن 2016 میں مزید کمی سے یہ اوسط عمر 78.6 ہو گئی ہے۔ امریکا میں نیشنل سینٹر برائے ہیلتھ میں شرح اموات کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے کے سربراہ رابرٹ اینڈرسن نے گزشتہ دو برسوں میں عمر میں کمی واقع ہونے کی شرح کو انتہائی پریشان کن قرار دیا ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہٴ صحت کی سن 2015 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں اوسط انسانی عمر میں اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں سن 2000 سے لے کر سن 2015 تک اقوام عالم میں اموات کے اعداد و شمار کو شامل کیا گیا تھا۔

عالمی ادارہٴ صحت کی رپورٹ کے تناظر میں امریکا میں زندگی کی شرح میں کمی کو انتہائی حیران کن قرار دیا گیا ہے۔ امریکا میں افیون سے تیار کی جانی والی مختلف منشیات میں اضافے سے ہونے والی اموات کو بھی خاص طور پر اوسط عمر میں کمی کے رجحان کا باعث ہیں۔ نیشنل سینٹر برائے ہیلتھ  نے بھی منشیات کے غیرضروری استعمال کو شرح حیات میں کمی کے رجحان سے جوڑا ہے۔

DW.COM