امریکا، لیبیا میں عسکری کارروائی پر غور کرنے لگا | حالات حاضرہ | DW | 05.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا، لیبیا میں عسکری کارروائی پر غور کرنے لگا

حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد گروپ داعش کے جنگجو لیبیا کا رُخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے خطرات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس شمالی افریقی ملک میں یہ شدت پسند زور پکڑ سکتے ہیں۔ یہ بات ایک امریکی اہلکار کی جانب سے کہی گئی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ قریب پانچ ہزار جہادی اب لیبیا میں ہیں۔ یہ تعداد پہلے لگائے گئے اندازوں سے قریب دو گُنا ہے۔ دوسری طرف عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ تازہ اعداو شمار ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر باراک اوباما پر مسلسل اس حوالے سے دباؤ بڑھ رہا ہےکہ وہ لیبیا میں آئی ایس کے خلاف فوجی اقدامات کریں جہاں داعش نے سرت جیسے شہر پر قبضہ کیا ہوا ہے اور لیبیا کے بحیرہ روم کے ساتھ ساحلی علاقوں میں ان کا اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے دفاع آئندہ ہفتے برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں داعش کے خلاف جاری مہم اور ان کوششوں کو دو گنا کرنے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔

سی آئی اے کے ایک سابق کیس افسر پیٹرک اسکنر کے مطابق امریکا کے پاس لیبیا کے حوالے سے کچھ اچھے امکانات بھی ہیں مگر اس بات پر اتفاق بڑھتا جا رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ کیا جائے۔ اسکنر اس وقت ’سوفان گروپ کنسلٹنسی‘ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اسکنر کا کہنا تھا، ’’وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ صورتحال تیزی سے خراب ہو سکتی ہے۔‘‘ اسکنر مزید کہتے ہیں، ’’اسلامک اسٹیٹ ایک مرتبہ جب کسی جگہ پر قبضہ کر لیتی ہےتو اسے واپس حاصل کرنا نہ صرف بہت سے خونریز ہوتا ہے بلکہ بہت زیادہ مہنگا بھی۔‘‘

داعش نے قذافی کے آبائی شہر سرت کو اپنا مضبوط گڑھ بنا لیا ہے

داعش نے قذافی کے آبائی شہر سرت کو اپنا مضبوط گڑھ بنا لیا ہے

اے ایف پی کے مطابق امریکا کو اب یقین ہے کہ شام اور عراق میں 19 ہزار سے 25 ہزار تک اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو موجود ہیں۔ جبکہ قبل ازیں ان کی تعداد کا اندازہ 20 ہزار سے 33 ہزار کے درمیان لگایا گیا تھا۔

تاہم لیبیا کے مستقبل کے حوالے سے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں کیونکہ 2011ء میں نیٹو کی معاونت سے معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ ملک مسلسل افراتفری کا شکار ہے۔ داعش نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں اپنے قدم جمانا شروع کردیے ہیں اور قذافی کے آبائی شہر سرت کو اپنا مضبوط گڑھ بنا لیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں کی شام اور عراق میں کم ہوتی ہوئی تعداد کی وجہ امریکی سربراہی میں ان کے خلاف جاری فوجی مہم کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لیبیا کی صورتحال کے باعث چونکہ انہیں آسانی ہو رہی ہے اسی باعث وہ وہاں جمع ہو رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئی انٹیلیجنس معلومات کے مطابق لیبیا میں داعش کے جنگجوؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے اندازے درست ہیں۔ ایرنسٹ کا مزید کہنا تھا، ’’ہم لیبیا میں خطرات پر نظر رکھ رہے ہیں اور ہم ان کے خلاف کسی ممکنہ ایکشن کے لیے خود کو تیار رکھیں گے۔‘‘