امریکا فلسطین کے لیے امداد کی بندش سے باز رہے، سویڈن | حالات حاضرہ | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا فلسطین کے لیے امداد کی بندش سے باز رہے، سویڈن

سویڈن نے امریکا سے کہا ہے کہ وہ فلسطین کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کی مالی امداد میں اپنی طرف سے کٹوتی سے باز رہے، کیوں کہ اس سے ایک نیا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

سویڈن فلسطین کو ایک خود مختار ریاست تسلیم کرتا ہے اور فلسطینیوں کے لیے امداد دینے والے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ سویڈن کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے امریکی امداد میں کٹوتی مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث ہو گی۔

فلسطین کے لیے فنڈنگ کی کمی، امريکا اور اسرائيل حامی

امریکی صدرنے فلسطینیوں کی امداد کم کرنے کی دھمکی دے دی

امریکا کے ساتھ امن کوششوں کا حصہ نہیں بنیں گے، محمود عباس

اقوام متحدہ میں تعینات سویڈش سفیر اولوف سکُوگ نے کہا ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نِکی ہیلی سے بات چیت میں اپنے ملک کی جانب سے ان تحفظات کا ذکر بھی کیا ہے۔

اس سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ واشنگٹن حکومت فلسطینیوں کی امداد کے عالمی ادارے کو 125 ملین ڈالر ادا نہیں کر رہی۔ یہ رقوم یکم جنوری کو اس عالمی ادارے کو دی جانا تھا، تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں کہ آیا یہ رقوم دی گئی ہیں یا نہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکا نے یہ رقوم روک رکھی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:56
Now live
01:56 منٹ

اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے والی فلسطینی لڑکی سوشل میڈیا اسٹار

نیو یارک میں صحافیوں سے بات چیت میں سکُوگ نے کہا، ’’میں نے امریکی سفیر کے ساتھ بات چیت میں خطے میں استحکام اور اقوام متحدہ کے فلسطینیوں کے لیے امدادی ادارے (UNRWA) کو دی جانے والی امریکی امداد کی بندش پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ہم نے پانچ ملین انسانوں کی بنیادی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ خطے کو ممکنہ عدم استحکام کی جانب لے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔‘‘

سویڈش سفیر نے اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا بھی عندیہ دیا۔ سلامتی کونسل فلسطینی اسرائیلی تنازعے کو 25 جنوری کو اپنے ایک اجلاس میں زیربحث لائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز پر دھمکی دی تھی کہ وہ فلسطینیوں کے لیے امریکی امداد روک سکتے ہیں۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی امریکا کی بابت احترام کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا فلسطینیوں کو کروڑوں ڈالر سالانہ دیتا ہے اور وہ امن کی جانب نہیں آ رہے۔ ’’تو پھر ہم انہیں اتنی بھاری رقوم کیوں ادا کریں؟‘‘

واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کے روز UNRWA کے لیے سرمایے کی فراہمی روکنے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سلسلے میں نظرثانی کی جا رہی ہے، ’’یہ موضوع زیربحث ہے اور ہمارے ہاتھ سے ابھی کوئی ڈیڈ لائن نہیں چھوٹی۔‘‘

واضح رہے کہ سویڈن یورپی یونین کا وہ پہلا رکن ملک ہے، جس نے سن 2014ء میں فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ سویڈن UNRWA کو سرمایہ مہیا کرنے والے دس بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ دیگر ممالک میں برطانیہ، جرمنی، سعودی عرب اور امریکا کے نام قابل ذکر ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic