’امریکا شام میں عسکریت پسندوں کو چن چن کر ہلاک کر رہا ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 28.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امریکا شام میں عسکریت پسندوں کو چن چن کر ہلاک کر رہا ہے‘

شامی اور عراقی سرزمین پر باقاعدہ امریکی فوجی موجودگی نہ ہونے کے باوجود خفیہ ادارہ سی آئی اے اور خصوصی فورسز شام میں متحرک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے اہم رہنماؤں کو چن چن کر ہلاک کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عراق اور شام میں زمینی امریکی فوج موجود نہ ہونے کی وجہ سے امریکا کو خفیہ معلومات جمع کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور خصوصاﹰ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی لڑائی کی قوت جاننے میں پریشانی لاحق ہے جب کہ امریکی فضائی کارروائیاں اب تک اس خودساختہ ’خلافت‘ کو کچلنے اور اس کی پیش قدمی روکنے میں ناکام رہی ہیں۔

لیکن ایک اہم عنصر تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور وہ یہ کہ خفیہ معلومات پر مبنی عسکری کارروائیوں کی کامیابی۔ سی آئی اے اور جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ کے اہم کمانڈروں کو ڈھونڈ کر انہیں مسلسل ہلاک کرتے جا رہے ہیں۔

USA, F-22 Jet

عراق اور شام میں شدت پسندوں کے خلاف لڑاکا طیاروں سے حملے بھی جاری ہیں

شام اور عراق میں امریکی ڈرون حملے لڑاکا طیاروں کے ذریعے کی جانے والی کارروائیوں کے علاوہ ہیں اور ان کی وجہ سے القاعدہ سے وابستہ خراسان گروپ کے بڑھتے خطرے کو قریب ختم کر دیا گیا ہے۔ اس گروہ کا منصوبہ تھا کہ یہ امریکی ایوی ایشن کو حملوں کا نشانہ بنائے گا۔

ایک خفیہ امریکی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایک کارروائی میں خراسان گروپ کا سربراہ محسن الفداحلی اور اہم ترین بم ساز ڈیوڈ ڈروگون کو رواں موسم گرما میں ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر حملوں میں اسلامک اسٹیٹ گروپ کا اعلیٰ رہنما حاجی متعاذ مارا گیا۔

اس سلسلے میں متعدد سیٹیلائیٹس، سینسرز، ڈرونز اور دیگر ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ ان شدت پسندوں کو تلاش کر کے ہلاک کیا جا سکے۔ اس طرح زمین پر فوجی موجودگی کے بغیر ہی ایسے عسکریت پسندوں کو ہدف بنانا ممکن ہو پایا ہے۔

ایک خفیہ عہدیدار نے بتایا کہ فضائی حملوں سے اسلامک اسٹیٹ کو شکست دینا ممکن نہیں، تاہم اہم کمانڈروں کی ہلاکت کی وجہ سے یہ گروہ بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کی بجائے اپنی قیادت کے بحران کو حل کرنے میں لگا رہتا ہے۔