1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا سے دوری پر روس کی فلپائن کو اسلحے اور دوستی کی پیشکش

فلپائن کے صدر ڈوٹیرٹے کے امریکا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں متعدد حالیہ لیکن بہت جذباتی بیانات کے بعد اب روس نے منیلا کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ماسکو کے ساتھ قریبی دوستی کی پیشکش بھی کر دی ہے۔

Kombobild Obama Duterte (picture-alliance/dpa/N. Shrestha/M. Irham)

فلپائن کے صدر ڈوٹیرٹے، دائیں، اور عنقریب اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے امریکی صدر باراک اوباما

منیلا سے بدھ چار جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق فلپائن میں روسی سفیر نے آج کہا کہ منیلا حکومت بیرونی دنیا کے ساتھ اپنے روابط میں زیادہ تنوع اور جدیدیت کی خواہش مند نظر آتی ہے۔ اس تناظر میں روس بھی چاہتا ہے کہ روایتی طور پر امریکا کی اتحادی رہنے والی اس جنوب مشرقی ایشیائی ریاست کو ماسکو کا قریبی دوست ملک ہونا چاہیے۔

منیلا متعینہ روسی سفیر نے یہ بھی کہا کہ ماسکو فلپائن کو جدید ہتھیار مہیا کرنے پر بھی تیار ہے، جن میں طیارے اور آبدوزیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

روئٹرز کے مطابق فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے کئی بار اپنے بہت جذباتی بیانات کے ساتھ منیلا کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کو شبہات میں ڈال چکے ہیں۔

صدر ڈوٹیرٹے نے اب تک نہ صرف اپنے ملک کی سابق نوآبادیاتی طاقت کے ساتھ مستقبل کے عسکری روابط کے بارے میں بہت سے سوال کھڑے کر دیے ہیں بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ روایتی فوجی قربت کم کرتے ہوئے چین اور روس جیسی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو بھی خاص طور پر فروغ دیا جائے۔

Peru APEC Gipfel 2016 Rodrigo Duterte Wladimir Putin (dpa)

گزشتہ برس نومبر میں پیرو میں ہونے والی ایشیا پیسیفک سمٹ کے موقع پر لی گئی صدر ڈوٹیرٹے، دائیں، اور روسی صدر پوٹن کی ایک تصویر

گزشتہ برس جون میں روڈریگو ڈوٹیرٹے کے منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد منیلا کے بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات میں اب تک کیا تبدیلیاں آ چکی ہیں، اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ روس کے دو جنگی بحری جہاز اسی ہفتے چار دن کے لیے فلپائن کا دورہ کریں گے، جس دوران دونوں ملکوں کی بحری فوجوں کے مابین پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر رابطے بھی عمل میں آئیں گے۔

اس پس منظر میں منیلا میں تعینات روسی سفیر ایگور اناطولیےوچ خووائیف نے موقع کی مناسبت سے روسی فلپائنی تعلقات کے بارے میں اپنا موقف جس پریس کانفرنس میں بیان کیا، وہ روس کے آبدوز شکن جنگی بحری جہاز ’ایڈمرل ٹرائبَٹس‘ پر کی گئی۔

روسی سفیر نے کہا کہ ان کی رائے میں فلپائن اپنے پارٹنر بیرونی ملکوں کے حوالے سے تنوع کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بات اِس یا اُس پارٹنر ملک کی نہیں ہے۔  تنوع کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ جو پہلے سے ساتھ ہے، اسے ساتھ رکھا جائے اور نئے پارٹنرز کو بھی ساتھ لے کر چلا جائے۔‘‘

Russisches U-Boot Kilo

روس نے فلپائن کو قریبی دوستی کی دعوت دیتے ہوئے جنگی طیارے اور آبدوزیں فراہم کرنے کی پیشکش بھی کر دی ہے

ایگور خووائیف نے صحافیوں کو بتایا، ’’بات یہ ہے کہ روس فلپائن کا ایک قریبی دوست اور نیا قابل اعتماد ساتھی بننے کے لیے تیار ہے۔‘‘ تاہم اس سلسلے میں روسی سفیر نے نام لیے بغیر امریکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا، ’’ہم آپ کے آپ کے روایتی ساتھی ملکوں کے ساتھ روابط میں کوئی مداخلت نہیں کرتے۔ اور آپ کے روایتی ساتھی ملکوں کو بھی فلپائن اور روس کے مفادات کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘

DW.COM