1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

امریکا، روس اور چین کے مقابلے میں یورپی سیٹیلائٹ نیوی گیشن نظام

آج سے یورپ کے بنائے ہوئے سیٹیلائٹ نیوی گیشن سسٹم گیلیلیو نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ جغرافیائی محل وقوع معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلا سیٹلائٹ نظام امریکی فوج کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن آج یہ ہر ملک کی ضرورت بن چکا ہے۔

گیلیلیو نیویگیشن سسٹم کے کام کرنے کے ساتھ ہی یورپ سیٹیلائٹس کی اس مارکیٹ میں داخل ہو گیا ہے، جہاں اربوں ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس سسٹم کو نہ صرف سڑکوں کے نقشوں بلکہ کاروں سے لے کر موبائل فونز کی ایپلی کیشنز تک میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی فوجیں بھی اسی نظام کو استعمال کر رہی ہیں اور جاسوسی سے لے کر ڈرون طیاروں کے لیے بھی یہی نظام استعمال ہوتا ہے۔ سیٹلائٹ نیویگیشن کے میدان میں سب سے پہلا مصنوعی سیارہ امریکا کی طرف سے 1978ء میں خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ 1993ء تک امریکا اپنے چوبیس مصنوعی سیارے خلاء میں بھیج چکا تھا اور اسی برس امریکی فوج نے اس کا استعمال شروع کیا تھا۔ اس کے بعد 1998ء میں اسی سیٹیلائٹ نیویگیشن نظام کو سویلین مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا گیا تھا۔

امریکا کے ’جی پی ایس‘ نظام میں اکتیس سیٹیلائٹس شامل ہیں جبکہ اس نظام میں تین سے پانچ ایسے سیٹیلائٹ بھی رکھے گئے ہیں، جنہیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فنکشنل کیا جا سکتا ہے۔ جی پی ایس کی ایکوریسی رینج تیس میٹر سے آٹھ میٹر تک ہے۔

اسی طرح روس نے ایک اپنا ایک گلوبل سیٹیلائٹ نیوی گیشن سسٹم بنا رکھا ہے، جسے ملٹری اور سویلین دونوں ہی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ روس نے سب سے پہلا سیٹیلائٹ 1982ء میں خلاء میں بھیجا تھا اور اس پورے روسی سیٹیلائٹ سسٹم نے 1996ء میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ روسی سیٹیلائٹ نیوی گیشن نظام میں ستائیس سیٹیلائٹس شامل ہیں اور فی الحال ان میں سے تیئیس کام کر رہے ہیں۔ روس کا  ’گلوناس سسٹم‘ امریکا کے ’جی پی ایس‘ سسٹم کا مقابلہ کرتا ہے اور اس کی ایکوریسی رینج تین سے پانچ میٹر ہے۔

یورپ کے سیٹیلائٹ نیوی گیش نظام کا آغاز تو سترہ برس پہلے کیا گیا تھا لیکن اس نے کام آج سے کرنا شروع کیا ہے۔ کبھی اس یورپی منصوبے کو سیاسی حملوں کا سامنا رہا، کبھی تکنیکی ناکامیوں کا تو کبھی سرمایے کی کمی کا۔ ابھی تک یورپ اس نظام کے تحت اپنے اٹھارہ سیٹیلائٹس خلاء میں بھیج چکا ہے لیکن 2020ء تک یہ تیس سیٹیلائٹ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت ساڑھے تین فٹ تک کی ایکوریسی حاصل کر لی جائے گی۔ یعنی کسی بھی نقشے یا ایپلی کیشن پر آپ کی پوزیشن کا زیادہ سے زیادہ دکھائی جانے والی پوزیشن سے فرق ساڑھے تین فٹ کا ہو سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس نظام کی پوزیشن کی ایکوریسی سینٹی میٹرز تک معلوم کی جا سکتی اور یہ پلوں کے نیچے اور سرنگوں میں بھی کام کرے گا جبکہ بڑی عمارتوں میں جی پی ایس کے سگنلز بلاک ہو جاتے ہیں۔

یہ یورپی نظام کسی بھی حوالے سے امریکی اور روسی نظاموں سے کم نہیں ہے۔ یورپی یونین کے مطابق روس اور امریکا کے برعکس اسے صرف سویلین مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اسی طرح چین بھی ’بِگ ڈیپر‘ نامی اپنا نیوی گیشن سیٹیلائٹ سسٹم قائم کر چکا ہے۔ چین نے اپنا پہلا سیٹیلائٹ 2007ء میں لانچ کیا تھا اور اب اس کے بیس سیٹیلائٹس خلاء میں ہیں۔ چین کا یہ سسٹم براعظم ایشیا میں سروس فراہم کرتا ہے۔ جو ملک اس چینی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ان میں لاؤس، پاکستان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ چین بھی سن 2020 تک تیس سیٹیلائٹ خلاء میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے اور تب ہی یہ پوری دنیا کو سروس فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ چین بھی اپنے سسٹم کو سویلین اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور اس کی ایکوریسی دس میٹر تک ہے۔