امریکا جوہری ڈیل کو ختم کرنے میں ناکام ہو گیا، روحانی | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا جوہری ڈیل کو ختم کرنے میں ناکام ہو گیا، روحانی

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا، ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے میں ناکام ہو گیا ہے اور یہ ایران کی فتح ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق آج اتوار 14 جنوری کو صدر حسن روحانی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکا اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کو برباد کرنے میں ناکام رہا ہے۔ روحانی نے کہا کہ امریکا کے خلاف ایران کی یہ ایک ’ناقابل فراموش فتح‘ ہے۔

ٹرمپ کی ایرانی جوہری معاہدہ ’ٹھیک‘ کرنے کے لیے ’آخری مہلت‘

ایرانی جوہری ڈیل کا مستقبل دوبارہ ٹرمپ کے ہاتھ میں

شمالی کوریا کے رہنما سے بات چیت کے لیے ’بالکل تیار‘ ہوں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے پر دستخط کرنے والے یورپی اتحادیوں کو جمعے کے روز الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہوں نے اس جوہری ڈیل میں موجود ’تباہ کن سقم‘ ختم نہ کیے، تو امریکا اس معاہدے سے الگ ہو جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے کی تاہم عبوری طور پر 120 دن کے لیے توسیع کر دی تھی۔

اتوار کے روز صدر روحانی کا خطاب ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر کیا گیا۔ صدر روحانی کا کہنا تھا، ’’امریکی انتظامیہ اس معاہدے کو برباد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پے در پے کوششوں کے باوجود یہ معاہدہ اب بھی موجود ہے۔ یہ ایران کے لیے ایک ناقابل فراموش فتح ہے۔‘‘

جمعے کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’آخری مرتبہ‘ اس معاہدے کی عبوری توثیق کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کو آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاہدے میں تبدیلیاں لائیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:34
Now live
01:34 منٹ

ايرانی جوہری پروگرام

دوسری جانب ایران نے واضح انداز میں کہا ہے کہ طے شدہ معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایران کے مطابق اگر امریکا اس معاہدے سے نکل بھی گیا، تب بھی جب تک دیگر دستخط کنندہ ممالک اس معاہدے کا احترام کریں گے، ایران بھی اس پر قائم رہے گا۔

سن 2015 میں طے پانے والے اس جوہری معاہدے کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود بنایا گیا تھا جب کہ اس کے بدلے اس پر عائد عالمی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔ ایران کے ساتھ اس معاہدے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقبل رکن ممالک امریکا، روس، برطانیہ، چین اور فرانس کے ساتھ ساتھ جرمنی بھی شامل ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic