1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا جریزہ نما کوریا میں مزید ’اسٹریٹیجک ہتھیار‘ بھیج سکتا ہے، جنوبی کوریا

امریکا اور اس کا اتحادی ملک جنوبی کوریا پیر کے روز جزیرہ نما کوریا میں مزید امریکی ’اسٹریٹیجک ہتھیاروں‘ کی تنصیب پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل امریکی بی باون طیارے نے جنوبی کوریا کی فضا میں پرواز بھی کی۔

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تجربے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اتوار کو جوہری حملے کی صلاحیت کے حامل امریکی بی باون طیارے نے شمالی کوریا کی سرحد سے انتہائی قریب پرواز کی، جب کہ اس وقت اس بمبار طیارے کے ہم راہ جنوبی کوریا کے ایف پندرہ اور امریکا کے ایف سولہ طیارے بھی تھے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا۔ سن 2006 کے بعد یہ چوتھا موقع ہے، جب شمالی کوریا نے کوئی جوہری دھماکا کیا ہے، تاہم امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دھماکا ممکنہ طور پر ’ہائیڈروجن بم‘ کا نہیں تھا۔

گوام جزیرے پر واقع امریکی فوجی اڈے سے جوہری حملے کی صلاحیت کے حامل بی باون طیارے نے جنوبی کوریا کے فضا پر پرواز کی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اقدام کا مقصد واشنگٹن کی جانب سے خطے میں اپنے اتحادی ممالک کو یقین دہانی کروانا تھی کہ وہ ان کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

Nordkorea Atomtestgelände Punggye-ri

شمالی کوریا نے چند روز قبل جوہری تجربے کا اعلان کیا تھا

شمالی کوریا کے سرکاری سرپرستی میں شائع ہونے والے اخبار روڈونگ سینمُن کے مطابق امریکا اس صورت حال کو جنگ کے دہانے تک لے آیا ہے۔

جنوبی کوریا کے میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا جنوبی کوریا میں بی ٹو، جوہری آبدوزیں اور F-22 اسٹیلتھ طیارے بھی تعینات کر سکتا ہے۔ جنوبی کوریا کے وزارت دفاع کے حکام نے تاہم ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان کم مِن سیوک نے تاہم کہا ہے، ’’امریکا اور جنوبی کوریا مسلسل ان مذاکرات میں مصروف ہیں کہ امریکا مزید اسٹریٹیجک اثاثوں کو جنوبی کوریا بھیجے۔‘‘

دوسری جانب چین نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے اجتناب برتیں۔ امریکی بی باون طیارے کی پرواز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لائی نے کہا کہ شمال مشرقی ایشیا کی سلامتی اور استحکام تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ ’’ہمیں امید ہے کہ تمام فریقین برداشت سے کام لیں گے اور تحمل سے قدم اٹھائیں گے، تاہم تناؤ میں مزید اضافہ نہ ہو۔‘‘