1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا برفانی طوفان کی زَد میں، واشنگٹن سفید ہو گیا

امریکا کی مشرقی ساحلی پٹی کے ساتھ آباد ریاستوں کو شدید برفانی طوفان کا سامنا ہے۔ اس طوفان کی زد میں آ کر مختلف شہروں میں اب تک کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق پچاسی ملین افراد اِس برفانی طوفان کے راستے میں ہیں۔ امریکی شہر بالٹی مور اِس طوفان کا سامنا کرنے والا پہلا بڑا شہر ہے۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بھی شدید برفباری سے چاروں طرف برف کی بچھی ہوئی سفید چادر دکھائی دے رہی ہے اور ابھی برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی دارالحکومت میں ویک اینڈ پر برفانی طوفان کی وجہ سے ہُو کا عالم ہے اور لوگ شدید سردی سے محفوظ ہونے کے لیے گھروں تک محدود ہیں۔ اِس طوفان کے ساتھ تیز رفتار ہوائیں بھی چل رہی ہیں۔

طوفان کی لپیٹ میں آنے والا علاقہ شمالی ریاست ورجینیا سے نیویارک سٹی تک پھیلا ہوا ہے۔ اِس ویک اینڈ پر شیڈیول سات ہزار پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ شمالی کیرولینا سے نیویارک کی جانب جانے والے زمینی راستے تقریباً بند دکھائی دیتے ہیں۔ ریلوے لائنز پر ٹریفک معطل کر دی گئی ہے۔ سڑکیں شدید برفباری کے خدشے میں ویران ہیں اور انتظامی ادارے موٹرگاڑیوں پر سفر کرنے والوں کو فوری طور پر سفر موقوف کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔

USA Washington Blizzard Schneesturm

امریکا کی مشرقی ساحلی پٹی کے ساتھ آباد ریاستوں کو شدید برفانی طوفان کا سامنا ہے

آج ہفتے کے روز امریکی ریاست پینسلوانیا میں مسلسل برف گرنے کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ پینسلوانیا کے جنوب مشرق میں واقع بڑا شہر فلاڈیلفیا خاص طور پر مسلسل برفباری کی گرفت میں ہے۔ محکمہٴ موسمیات کے مطابق آج ہفتے کی شام تک یہ برفانی طوفان یقینی طور پر امریکی شہر نیویارک تک پہنچ جائے گا۔

محکمہٴ موسمیات کے مطابق ابھی تک برف گرنے سے سابقہ ریکارڈ ٹوٹنے کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔ سن 2010 میں امریکی دارالحکومت میں ڈیڑھ فٹ کے قریب برف گری تھی۔

بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ برفانی طوفان سے متاثرہ علاقوں کی آبادی اپنا ویک اینڈ گھروں کے اندر ہی گزارنے پر مجبور ہے اور اشیائے خوردونوش کا بھی ذخیرہ کر لیا گیا ہے۔ امریکی محکمہٴ موسمیات کے مطابق ابھی طوفان کی شدت نے آنا ہے اور متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اِس برفانی طوفان نے امریکا کے جنوبی خلیجی سمندری علاقے میں جنم لیا تھا۔ مشرقی ساحلی علاقے سے اٹھنے والے گرم مرطوب تیز رفتار موسمی ہواؤں نے بحرِ اوقیانوس کے سرد موسم سے ٹکرانے کے بعد جنوبی خلیجی علاقے سے اٹھنے والے جھکڑوں کو برفانی طوفان کا روپ دیا۔

یہ برفانی طوفان ارکنساس، ٹینیسی اور کنٹکی کے بعض مقامات پر برف گراتے ہوئے آگے بڑھتا جا رہا ہے اور سارے علاقے سنگین سری دی کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔ برفباری کا سلسلہ اگلے ہفتے کے دوران بھی جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح خیال کیا جا رہا ہے کہ اِس موسم کی وجہ سے سمندر میں بلند لہریں پیدا ہونے سے بعض امریکی ریاستوں کے نشیبی علاقوں میں سیلابی پانی جمع ہو جائے گا۔