1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکا: ای سگریٹ کی فروخت کے حوالے سے نئی قانون سازی

گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں الیکٹرانک یا ای سگریٹ کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ امریکا میں اب کم عمر افراد کو ای سگریٹ کی فروخت کے حوالے سے سخت قانون سازی کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن یا ایف ڈی اے نے ای سگریٹوں کی فروخت کے حوالے سے نئے ضوابط جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے افراد کو ایسے سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی ایف ڈی اے نے ای سگریٹ بنانے والی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات پر ایسے لیبل چسپاں کریں، جن کے ذریعے ایسے سگریٹوں میں نکوٹین کی مقدار واضح کر دی گئی ہو۔ اس کے علاوہ تشہیر کے لیے ای سگریٹس کی مفت تقسیم پر بھی پابندی ہو گی اور انہیں ایسی خود کار مشینوں سے بھی ہٹا دیا جائے گا، جن سے 18 سال سے کم عمر کے نوجوان انہیں خرید سکتے ہیں۔

ایف ڈی اے کے مطابق ای سگریٹوں میں نکوٹین مائع کی صورت میں مختلف قسم کے ذائقوں کے ساتھ موجود ہوتی ہے، جن میں پروپائلین گلوکول، گلیسرین اور دیگر اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ کش لگانے کی صورت میں مائع گرم ہو کر دھوئیں کی صورت میں صارف کے منہ میں داخل ہوتا ہے، اس عمل کو ’ویپنگ‘ کہا جاتا ہے۔ امریکی محققین گزشتہ برس اپنی ایک رپورٹ میں الیکٹرانک سگریٹ کے مختلف ذائقوں کو مضر صحت قرار دے چکے ہیں۔

نئے ضوابط کے تحت ای سگریٹ پر واضح طور پر لکھا ہونا چاہیے، ’’خبردار! اس میں نکوٹین موجود ہے اور نکوٹین ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے، جو نشے کا عادی بنا سکتا ہے۔‘‘ یہ نئے ضوابط ان اداروں پر بھی لاگو ہوں گے، جو مائع نکوٹین تیار کرتے ہیں یا اسے دوسری اشیاء کے ساتھ ملاتے ہیں۔ ایف ڈی اے کے مطابق تمباکو نوشی تمباکو نوش کو اپنا عادی بنا دیتی ہے اور سرطان کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔

ان نئے ضوابط کا اعلان کرنے کے دوران ایف ڈی اے نے امریکا میں ای سگریٹس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ اس بیان میں کہا گیا کہ 2015 ء میں اسکول کی سطح کے تقریباً تین ملین بچے ای سگریٹس پیتے تھے جبکہ 2014ء میں یہ تعداد ڈھائی ملین تھی۔ ایف ڈی اے کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے افراد کو ای سگریٹ فروخت نہ کرنے کے قانون پر رواں برس یکم اگست سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا جبکہ اس سلسلے میں طے کیے جانے والے دیگر ضوابط کو لاگو کرنے میں کچھ سال لگ سکتے ہیں کیونکہ ای سگریٹس بنانے اور فروخت کرنے والے کاروباری اداروں کو معاملات طے کرنے کے لیے وقت درکار ہو گا۔