1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

امریکا اور چین نے پیرس کلائمیٹ ڈیل کی توثیق کر دی

جی ٹوئنٹی سمٹ سے قبل چین اور امریکا نے پیرس میں ماحول سے متعلق طے پانے والی بین الاقوامی ڈیل کی توثیق کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے افس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

جی ٹوئنٹی کی سمٹ میں شریک امریکی صدر باراک اوباما نے آج اپنے چین کے آخری دورے کے موقع پر اپنے چینی ہم منصب کے ہمراہ پیرس کلائمیٹ ڈیل کی توثیق کا اعلان کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے امریکی اور چینی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے بقیہ ملکوں سے کہا ہے کہ وہ بھی اِس کی تقلید کریں۔

قبل ازیں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس نے پیرس کلائمیٹ ڈیل کو تسلیم اور منظور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشرقی چینی صوبے ژی جیانگ کے صدر مقام ہانگ چو میں ہونے والی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی سمٹ سے قبل دنیا کے دو بڑے اور اہم ملکوں کے اس توثیقی عمل پر تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں نے خوش گوار حیرت کا اظہار کیا ہے۔

پیرس کلائمیٹ ڈیل پر گزشتہ برس 180 ملکوں کے نمائندوں نے دستخط کیے تھے۔ اس وقت مختلف ملکوں کی پارلیمانوں میں اِس ڈیل کی باضابطہ منظوری کا عمل جاری ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ پیرس کلائمیٹ ڈیل کا نفاذ اُس وقت ہو گا جب دنیا بھر کی کم از کم پچپن اقوام اِس کی توثیق کر دیں گی۔ ابھی تک اس ڈیل کی توثیق کرنے والے ملکوں کی تعداد چوبیس ہے۔ ان میں شمالی کوریا بھی شامل ہے۔ یہ تعداد 180 ملکوں کی جانب سے سبز مکانی گیسوں کے اخراج کے مجموعی حجم کا 1.08 ہے۔ امریکا اور چین کی توثیق کے بعد یہ حجم 39فیصد سے زائد ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے مطابق 180 ملکوں کی کل آبادی میں سے پچپن فیصد کی توثیق سے ڈیل میں قوتِ نافذہ پیدا ہو گی۔

#bbig#

چین کی جانب سے ماحولیات کی اِس غیرمعمولی ڈیل کی توثیق کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل وارمنگ میں چار ملک سب سے نمایاں ہیں اور ان میں چین پہلے، امریکا دوسرے، روس تیسرے اور بھارت چوتھے نمبر پر ہے۔ چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ یہ آبادی لگ بھگ ایک ارب اڑتیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور یہ ملک سبز مکانی گیسوں کا اخراج بیس فیصد کرتا ہے ۔ امریکا کی آبادی بتیس کروڑ سے زائد ہے لیکن ضرر رساں گیسوں کے اخراج کا حجم اٹھارہ فیصد ہے۔ روس کی جانب سے ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کا حجم سات فیصد سے زائد ہے جبکہ بھارت کی سبز مکانی گیسوں کے شرح اخراج چار فیصد سے زائد ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ پیرس کلائمیٹ ڈیل ایک ایگزیکٹیو سمجھوتا ہے اور یہ کسی بین الاقوامی ٹریٹی یا معاہدے کے زمرے میں نہیں آتی۔ اس لیے امریکی صدر باراک اوباما نے کانگریس کی منظوری حاصل کیے بغیر اِس کی توثیق کرنے کے اپنے اختیار کو استعمال کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پیرس ماحولیاتی ڈیل ٹریٹی ہوتی تو کانگریس یقینی طور پر مسترد کر دیتی۔

DW.COM