1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا اور اسرائیل پاکستان اور ایران میں ’مداخلت‘ کر رہے ہیں، ایردوآن

ترک صدر ایردوآن نے امریکا اور اسرائیل پر پاکستان اور ایران کے داخلی معاملات میں ’مداخلت‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران نے بھی ملک میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے بعد امریکا پر ایسا ہی الزام عائد کیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے فرانس کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل انقرہ میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل پر پاکستان اور ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔ ترکی کے ہمسایہ ملک ایران میں مہنگائی کے خلاف کئی روز تک جاری رہنے والے پرتشدد مظاہروں میں اکیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران میں پرتشدد مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 20 ہو گئی

امریکا پاکستان کے خلاف کون سے اقدامات اٹھا سکتا ہے؟

انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوآن کا کہنا تھا، ’’ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ کچھ ممالک، جن میں امریکا اور اسرائیل سرفہرست ہیں، پاکستان اور ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کریں۔ ان ممالک میں لوگوں کو لوگوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ہم نے ایسا کئی ملکوں میں ہوتے دیکھا، ایسا ہی عراق میں بھی ہوا۔‘‘

ترک صدر نے اپنے ان تازہ الزامات میں یہ وضاحت نہیں کی کہ پاکستان کے داخلی معاملات میں کیسے مداخلت کی جا رہی ہے تاہم بظاہر اس کا پس منظر امریکا کی جانب سے پاکستان کولیشن فنڈ کے تحت امداد اور اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد کرنا دکھائی دیتا ہے۔

علاوہ ازیں صدر ایردوآن نے شام، فلسطین، مصر، لیبیا اور تیونس کے علاوہ چاڈ اور سوڈان سمیت کچھ افریقی ممالک کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کچھ ممالک میں ’ایک کھیل کھیلا جا رہا ہے جو سبھی مسلم اکثریتی ممالک ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ان سب ممالک میں مٹھی بھر دولت مند افراد کو اپنا سرمایہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ معذرت، یہ ایک حقیقت ہے جس کا علم ہمارے عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کو ہونا چاہیے۔‘‘

رواں ہفتے بدھ کے روز ترک صدر نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایران میں ’امن و استحکام‘ کے لیے انقرہ حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ جمعے کے روز صدر ایردوآن نے ایرانی صدر کے اس بیان کا خیر مقدم بھی کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مظاہرہ کرنا شہریوں کا جمہوری حق ہے۔

ماضی میں ترک صدر ایران پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں تاہم حالیہ مہینوں کے دوران ترکی شام میں قیام امن کے لیے روس اور ایران کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران انقرہ اور تہران کے تعلقات میں بھی کافی گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستان کی سلامتی کو خطرات کا معاملہ، کیا جنگ کا خدشہ ہے؟

امریکی فیصلہ: ایک سو برس بعد فلسطینیوں پر ایک اور کاری وار

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات