1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا، افغانستان کو تین بلین ڈالرز سالانہ امداد دے گا

امریکا افغانستان کی نیشنل سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے سالانہ تین بلین ڈالرز سے زائد امداد فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ دوسری طرف طالبان نے افغانستان کے شمالی حصے میں دو درجن سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔

امریکا افغانستان کی نیشنل سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے سالانہ تین بلین ڈالرز سے زائد امداد فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی منصوبے کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کے لی سالانہ تین بلین ڈالرز سے زائد کی یہ رقم، 2018ء سے 2020ء کے عرصے کے دوران فراہم کی جائے گی۔ روئٹرز کے مطابق یہ بات افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے آج منگل 21 جون کو بتائی ہے۔

ایک امریکی تھِنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے اولسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی حکومت کانگریس سے یہ درخواست کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے کہ افغانستان کو 2018ء سے 2020ء تک کے عرصے کے لیے ترقیاتی اور معاشی مدد کے طور پر ایک بلین ڈالرز سالانہ دیے جائیں۔

افغانستان کے شمالی حصے میں طالبان نے 25 افراد کو اغواء کر لیا

افغان طالبان نے آج منگل 21 جون کو ملک کے شمالی حصے میں دو درجن سے زائد افراد کو بسوں سے اُتار کر اغوا کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ صوبہ ہلمند کے ضلع واشر میں آج علی الصبح پیش آیا۔ ابھی گزشتہ روز ہی عسکریت پسندوں نے 20 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان میں سے 14 نیپالی سکیورٹی گارڈز تھے۔

طالبان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ٹوئیٹر پیغام کے مطابق افغان حکومت کے اہلکاروں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے

طالبان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ٹوئیٹر پیغام کے مطابق افغان حکومت کے اہلکاروں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے

صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواک نے اے ایف پی کو بتایا، ’’انہوں نے قریب 25 افراد کو اغوا کیا ہے جو تمام مرد ہیں۔‘‘ وہ اغوا کیے جانے والوں کی بالکل درست تعداد بتانے سے قاصر تھے تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ افراد ایک بس اور ٹرکوں کے ذریعے ملک کے جنوبی صوبہ قندھار سے مغربی صوبہ ہرات کی جانب سفر کر رہے تھے۔

عمر زواک کا مزید کہنا تھا، ’’ہماری تازہ اطلاع کے مطابق اغوا شدہ افراد کو صوبہ ہلمند کے ضلع مرجا میں لے جایا گیا ہے۔ ہم نے ان افراد کی تلاش اور ان کو چھڑانے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔‘‘

ضلع مرجا کو طالبان کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور صوبہ ہلمند میں یہ مقام طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان اکثر میدان جنگ بنا رہتا ہے۔ ایک عینی شاہد آغا جان نے اے ایف پی کو بتایا کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس عسکریت پسندوں نے ابتدائی طور پر 37 افراد کو حراست میں لیا تاہم بعد میں انہوں نے خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا۔

طالبان عسکریت پسندوں کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ٹوئیٹر پیغام کے مطابق افغان حکومت کے اہلکاروں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے، ’’جو لوگ بے گناہ ہیں انہیں چھوڑ دیا جائے گا مگر جو کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے لیے کام کرتے ہیں انہیں اماراتی عدالت کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘‘