1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکا: اسلحے کے سخت تر قوانین کے لیے کتنوں کو مرنا ہو گا؟

ملک مرسر کو اس کی 16 ویں سالگرہ سے کچھ پہلے محض اس کی بیلٹ لینے کے لیے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ امریکا میں آئے روز لوگ آتشیں اسلحے کی فائرنگ سے مارے جاتے ہیں، اسلحے کے سخت تر قوانین کے لیے اور کتنوں کو مرنا ہو گا؟

USA Reportage Waffengewalt Malek Mercer

پندرہ سالہ ملک مرسر (Malek Mercer) کو صرف ایک بیلٹ کے حصول کے لیے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

واشنگٹن سے ڈی ڈبلیو کی اِنیس پوہل نے اپنے رپورتاژ میں ملک مرسر کے اُس کمرے کی منظر کشی کی ہے، جسے اس نوعمر سیاہ فام امریکی لڑکے کی والدہ شیرن بیکس نے آج بھی اُس کی رنگا رنگ تصاویر سے سجا رکھا ہے۔ 43 سالہ شیرن بیکس کا امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جنوب مشرق کی جانب آکسن ہِل کے مقام پر واقع گھر، جہاں گنتی کی چند چیزیں نظر آ رہی ہیں، اُس کی غربت کا گواہ ہے۔

DW.COM

ایک دیوار ملک مرسر کی بے شمار تصاویر سے سجی ہوئی ہے۔ ایک تصویر میں وہ زور سے قہقہے لگاتا دکھائی دے رہا ہے۔ دیگر تصاویر میں اُس کا بچپن اور لڑکپن دیکھا جا سکتا ہے، کہیں وہ ماں کی گود میں ہے تو کہیں اپنے دوستوں یا اپنی ایک کزن کے ساتھ۔ ان تصاویر پر اُس کے دوستوں اور اہل خانہ نے رنگا رنگ روشنائی سے دستخط کر رکھے ہیں اور اُس کے نام پیغامات لکھے ہوئے ہیں۔

ملک مرسر کے دوستوں کے مطابق وہ ایک بس میں سوار تھا، جہاں ایک شخص نے اُس سے اُس کی بیلٹ مانگی تھی، انکار پر دونوں گتھم گتھا ہو گئے، جس کے بعد اُس شخص نے ملک کو سر میں پیچھے سے گولی مار دی۔ تین روز تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ انتقال کر گیا۔ تب اگلے ہی روز گرمیوں کی تعطیلات شروع ہونے والی تھیں اور تیسرے روز ا ُس کی سولہویں سالگرہ تھی۔

اِنیس پوہل کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کا علاقہ خاص طور پر سیاہ فام نوعمروں کے لیے بہت خطرناک ہے۔ گزشتہ سال وہاں 202 افراد فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ اپنے بیٹے کی یاد میں آنسو بہانے والی شیرن بیکس اپنے باقی بچوں کے ساتھ کہیں اور منتقل ہو جانا چاہتی ہے، جہاں اتنے خطرات نہ ہوں۔

امریکا میں ہر روز اُنیس سال سے کم عمر کے اوسطاً سات بچے یا نوعمر آتشیں اسلحے کی زَد میں آ کر ہلاک ہو جاتے ہیں، سال بھر میں یہ تعداد تیس ہزار بنتی ہے۔ امریکی عوامی نمائندے بھی اسلحے کے زیادہ سخت قوانین پر بے نتیجہ بحثیں کر کر کے تنگ آ چکے ہیں۔

USA Reportage Waffengewalt Sharon Becks

ملک مرسر کی تینتالیس سالہ والدہ شیرن بیکس اپنے بیٹے کی یاد میں مسلسل آنسو بہاتی رہتی ہے

منگل پانچ جولائی کو کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان ایک بار پھر اسلحے کے سخت تر قوانین کے لیے احتجاج کریں گے۔

شیرن بیکس پوچھتی ہے کہ آخر زیادہ سخت قوانین کے نفاذ کے لیے اور کتنے بچوں کو مرنا ہو گا؟ اُسے یقین ہے کہ کچھ بھی نہیں ہونے والا کیونکہ اسلحے کی حامی لابی بہت زیادہ طاقتور ہے۔