1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا اسرائیل عسکری ڈیل سے دفاعی عزم مزید مستحکم ہو گیا، ایرانی فوجی سربراہ

ایرانی فوج کے سربراہ محمد حسین بغیری نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان 38 ارب ڈالر کی عسکری ڈیل نے ایران کے اپنی فوجی قوت میں اضافے کے عزم کو مزید تقویت دی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر براہ راست نشر کی جانے والی تقریر میں جنرل بغیری نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان عسکری ڈیل سے ایران کو یہ عزم ملا ہے کہ وہ اپنی دفاعی قوت مزید مستحکم بنائے۔ جنرل بغیری نے یہ بات تہران میں ایک عسکری پریڈ میں کہی۔

اس سالانہ پریڈ میں ایران نے طویل فاصلے تک مار کی صلاحیت والے میزائل ’ذوالفقار‘ اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام S-300 کی بھی نمائش کی۔

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا اور اسرائیل نے ایک نئے سلامتی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکا اگلے دس برسوں میں اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی عسکری معاونت فراہم کرے گا۔

ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور اسرائیل مخالف عسکری گروہوں حماس اور حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے۔

Symbobild Marine Iran

اس پریڈ میں ایران نے عسکری قوت کا مظاہرہ کیا

ایران پر 21 ستمبر 1980ء کو ہونے والے عراقی حملے کی برسی کے موقع پر جنوبی ایرانی بندرگاہی شہر بندر عباس میں بھی ایک علیحدہ عسکری پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پریڈ میں ایران نے جدید ترین میزائلوں، بحری جنگی جہازوں اور ہتھیاروں کی نمائش بھی کی۔ اس پریڈ میں وہ عسکری ٹرک بھی دکھائی دیے، جن پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اسرائیل مخالف بیانات بھی درج تھے۔ ان پر تحریر تھا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اسرائیلی شہروں تل ابیب اور حائفہ کا وجود مٹا دیا جائے گا۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے بتایا کہ ذوالفقار طویل فاصلے تک مار کی صلاحیت کا حامل بیلسٹک میزائل ہے، جو ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے۔ بعد میں اس خبر رساں ادارے نے دوبارہ بتایا کہ اس میزائل کی رینج سات سو کلومیٹر ہے، تاہم اس میزائل کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ اس پریڈ میں قدر ایچ میزائل دکھایا گیا، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ بیلسٹک میزائل دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

ایران عراق جنگ کی 36 ویں برسی کے موقع پر ایران میں متعدد مقامات پر تقاریب منعقد کی گئیں۔ سن 1980 تا 1988 جاری رہنے والی اس جنگ میں مجموعی طور پر ایک ملین سے زائد افراد مارے گئے تھے۔