1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا آسیان سربراہ ملاقات میں چینی ’زیادتیوں‘ کے تذکرے

امریکا کی میزبانی میں جنوب مشرقی ایشیائی سربراہوں کا اجلاس امریکا کے پر فضا مقام سنی لینڈز میں آج ختم ہو رہا ہے۔ اوباما کو امید ہے کہ آسیان سربراہ اجلاس کے انعقاد سے خطے میں امریکی کردار اور مفادات میں اضافہ ممکن ہو گا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اس دو روزہ آسیان سربراہ اجلاس کی میزبانی اسی مقام پر کی ہے، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کی تھی۔ اس اقدام کو بھی علامتی طور پر یوں دیکھا جا رہا ہے کہ امریکا ایشیا پیسیفک میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آسیان: امریکا اور چین کی توجہ کا مرکز

آسیان سربراہ اجلاس: چین پر تنقید

چین کے اپنے جنوبی سمندری علاقوں میں قبضوں کے خلاف دباؤ ڈالنے کی امید کرتے ہوئے اوباما نے اپنے افتتاحی خطاب کے دوران ہی کہا کہ امریکا اور آسیان ممالک دونوں کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ خطے کے تمام ممالک یکساں طور پر قوانین کی پاسداری کریں۔

اپنی صدارت کے آخری سال میں اوباما کی خواہش ہے کہ وہ اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے قبل آسیان ممالک کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت سے مستفید ہونے کا کوئی عملی منصوبہ بنا سکیں۔

اوباما کا کہنا تھا، ’’بطور صدر میں نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ امریکا کو دنیا بھر میں درپیش فوری خطرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے مواقع سے بھی استفادہ کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے دنیا میں آسیان سے زیادہ مواقع شاید ہی کسی اور خطے میں دستیاب ہوں۔ اسی وجہ سے صدر بننے کے بعد سے میں نے ایشیا پیسیفک میں ایک وسیع تر اور طویل مدتی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

ASEAN - USA Gipfel in Malaysia

آسیان امریکا اجلاس گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں ملائیشیا میں ہوا تھا

آسیان سربراہ اجلاس کی میزبانی کے ذریعے امریکا فوری طور پر خطے میں چینی سرگرمیوں کے خلاف جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو متحد کرنا چاہتا ہے۔ آج منگل کے روز اجلاس کے شرکاء اقوام متحدہ کی مستقل ثالثی عدالت میں جاری کیس کے بارے گفتگو کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی یہ ثالثی عدالت چین کی جانب سے سمندری حدود میں توسیع کے بارے میں فیصلہ مارچ یا اپریل میں سنائے گی جب کہ چین اس عدالت کو تسلیم نہیں کرتا۔ امریکا کو امید ہے کہ اگر آسیان ممالک اس عدالت کی حمایت کریں گے تو چین پر دباؤ بڑھے گا اور مستقبل میں وہ بین الاقوامی طور پر تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔

ادھر بیجنگ حکومت بھی اپنے خلاف تنقید کو غیر مؤثر کرنے کے لیے اپنے اقتصادی اور سفارتی وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اس ضمن میں آسیان کے دو اراکین کمبوڈیا اور لاؤس کو خاص طور پر چینی دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ دونوں ممالک اقتصادی طور پر چین پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

اوباما بھی اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ممالک کو چین کے اثر و رسوخ سے نکالنا چاہتے ہیں۔ امریکا کو امید ہے کہ آسیان سربراہ اجلاس ان مقاصد کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کر رہا ہے۔

آسیان ممالک میں انڈونیشا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، برونائی، لاؤس، ویتنام، میانمار اور کمبوڈیا شامل ہیں۔

DW.COM