1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا:بريفنگ ميں صحافيوں پر پابندی ’ناقابل قبول اور جمہوريت کی توہين‘

وائٹ ہاؤس کی جانب سے يوميہ پريس بريفنگ ميں چند صحافتی اداروں کو ممنوع قرار دينے کے رد عمل ميں ذرائع ابلاغ کےکئی امريکی اداروں نے انتظاميہ کے اس متنازعہ عمل کو ’ناقابل قبول اور جمہوری تقاضوں کی توہين‘ قرار ديا ہے۔

DW.COM

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظاميہ کی جانب سے چند مخصوص صحافيوں اور اداروں کو جمعے چوبيس فروری کے روز منعقدہ وائٹ ہاؤس کی يوميہ پريس بريفنگ ميں شرکت سے روکے جانے پر شديد رد عمل ديکھنے ميں آيا ہے۔ ’وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ايسوسی ايشن‘ یا نامہ نگاروں کی تنظیم کے مطابق اس فيصلے کے شديد مذمت جاری ہے اور اس سلسلے ميں متعلقہ عملے سے رابطہ کيا جا رہا ہے۔ امريکی نشرياتی ادارے سی اين اين کے ايک اينکر جيک ٹيپر نے اسے ’غير امر يکی اقدام‘ قرار ديا ہے۔ علاوہ ازيں ادارے کے محکمہء کميونيکيشن نے اپنے ايک ٹوئٹر پيغام ميں لکھا ہے کہ يہ ايک ناقابل قبول پيش رفت ہے۔ امريکی ادارے کے مطابق، ’’جب وہ حقائق بيان کيے جائيں، جو انتظاميہ کو پسند نہيں تو اس طرح کا رد عمل ظاہر کيا جاتا ہے۔ ہم اپنی رپورٹنگ جاری رکھيں گے۔‘‘ اسی طرح ايک اور چوٹی کے ادارے نيو يارک ٹائمز نے اپنے ايک اداريے ميں لکھا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے چند اداروں کی ممانعت جمہوری طور طريقوں کی توہين ہے اور کچھ نہيں۔

يہ رد عمل در اصل جمعے کو ہونے والی پيش رفت کے تناظر ميں سامنے آيا جب انتظاميہ نے وائٹ ہاؤس کی يوميہ پريس بريفنگ سے سی اين اين، نيو يارک ٹائمز اور کئی ديگر ايسے بڑے اداروں کو خارج کر ديا جو عموماً انتظاميہ پر تنقيد کرتے رہے ہيں۔ بی بی سی، دا لاس اينجيلس ٹائمز اور کئی ايجنسياں بھی بريفنگ کا حصہ نہ تھيں۔ قدامت پسند اور ’دوست‘ مانے جانے والے فوکس نيوز، ون امريکا اور برائٹ بارٹ جيسے ادارے بريفنگ ميں موجود تھے، جو بند دروازوں کے پيچھے ہوئی۔

اس پيش رفت کی صرف صحافتی اداروں اور شخصيات ہی کی جانب سے مذمت نہيں کی گئی بلکہ متعدد سياستدانوں نے بھی اس کی مخالفت کی۔ ڈيموکريٹ سياستدان، ماہر اقتصاديات اور سابق ليبر سيکرٹری روبرٹ ريش نے کہا، ’’ٹرمپ بطور صدر پبلک سرونٹ ہيں اور سچ عوام کی ملکيت ہے۔‘‘ انہوں نے سماجی رابطوں کی ويب سائٹ فيس بک پر اپنی ايک تحرير ميں لکھا کہ ٹرمپ مسلسل جھوٹ بولتے ہيں اور ان کی پکڑائی کرنے والے ذرائع ابلاغ کو پھر وہ سزا ديتے ہيں۔ ان کے بقول اس قسم کے اقدامات کی توقع ايک آمر سے تو کی جا سکتی ہے تاہم امريکا کے صدر سے نہيں۔