1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امريکی وزير خارجہ کا دورہ پاکستان اور بھارت، کسے کيا ملے گا؟

امريکی وزير خارجہ آئندہ ہفتے پاکستان اور بھارت کا دورہ کرنے والے ہيں۔ ريکس ٹلرسن نے اس دورے سے قبل کہا ہے کہ چين کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ان کا ملک بھارت کے ساتھ ڈرامائی حد تک قريبی تعاون کا خواہاں ہے۔

امريکی وزير خارجہ ريکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ بھارت اور امريکا کو مل کر خطے کے ديگر ممالک کو اس قابل بنانا چاہيے کہ وہ اپنا دفاع کر سکيں۔ اس کے علاوہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درميان روابط بڑھنے چاہييں، علاقائی سطح پر ان ممالک کی آواز اور بلند ہونی چاہيے اور وہ بھی اس انداز ميں کہ ان کے مفادات واضح ہوں اور اقتصادی ترقی ممکن ہو۔ ٹلرسن نے يہ بيان بدھ کی شب ديا۔ ان کے بقول واشنٹگن بھارت کی حکومت کے ساتھ ڈرامائی حد تک قريبی تعلقات کا خواہاں ہے۔ امريکی وزير خارجہ کا يہ بيان پاکستان کے ليے امکاناً باعث تشويش ثابت ہو گا۔ امريکی محکمہ خارجہ کے ايک اہلکار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اس کی تصديق کی کہ ٹلرسن آئندہ ہفتے بھارت کے ساتھ ساھ پاکستان کا دورہ بھی کريں گے۔

جنوبی ايشيا ميں پاکستان پچھلی کئی دہائيوں سے امريکا کا اہم اتحادی ملک رہا ہے۔ تاہم ايسا معلوم ہوتا ہے کہ اب امريکی اہلکار افغانستان ميں طالبان تحريک کے ليے پاکستان کی مبينہ حمايت سے تھک چکے ہيں۔ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمٹ نے اسی سال اگست ميں اس خطے کے ليے اپنی نئی پاليسی کا اعلان کيا، جس ميں پاکستان پر کافی دباؤ ڈالا گيا کہ وہ انتہا پسند گروہوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف واضح حکمت عملی اختيار کرتے ہوئے کارروائی کرے۔ يہ امر بھی اہم ہے کہ امريکا يہ چاہتا ہے کہ افغانستان ميں بھارت زيادہ فعال کردار ادا کرے۔ امکان ہے کہ ريکس ٹلرسن اسلام آباد ميں حکومت پر زور ڈاليں گے کہ وہ کابل حکومت اور اعتدال پسند گروہوں کے مابين امن مذاکرات کا عمل شروع کرانے کے ليے اپنا کردار ادا کرے۔

اٹھارہ اکتوبر کے روز جاری کردہ اپنے بيان ميں امريکی وزير خراجہ نے مزيد کہا کہ امريکا نے ايشیا ميں چينی سرمايہ کاری سے بنيادی ڈھانچے کی ترقی کا متبادل تلاش کرنے کے ليے مکالمت کا عمل شروع کر ديا ہے تاہم انہوں نے اپنے اس نکتے کی مزيد وضاحت نہيں کی۔ ٹلرسن کے بقول واشنگٹن حکومت علاقائی سطح پر بھارت، جاپان اور امريکی کے سکيورٹی سے متعلق مشترکہ سمجھوتے ميں وسعت کی گنجائش بھی ديکھتا ہے اور اس ميں آسٹريليا کو شامل کيا جا سکتا ہے۔

اپنے بيان ميں البتہ امريکی وزير خارجہ نے يہ بھی کہا کہ ان کا ملک چين کے ساتھ تعميری تعلقات چاہتا ہے۔ آئندہ ماہ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چين کا دورہ کرنے والے ہيں۔

ویڈیو دیکھیے 01:29

چینی اور پاکستانی فضائیہ کی مشترکہ عسکری مشقیں

Audios and videos on the topic