1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امريکہ اگست کے آخر تک عراق ميں جنگی کارروائی ختم کردے گا۔صدر اوباما

امريکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ امريکہ سن 2011 کے آخر تک عراق سے اپنی فوج کے مکمل انخلا کے وعدے پر قائم ہے۔ عراق ميں امريکہ کی جنگی کارروائياں اگست کے آخر تک ختم کردی جائيں گی

default

صدر اوباما 2 اگست کو اٹلانٹا ميں تقرير کرتے ہوئے۔

امريکی صدر اوباما نے يقين دلايا ہے کہ امريکہ عراق ميں تشدد ميں حاليہ اضافے کے باوجود، پروگرا کے مطابق عراق ميں اپنا جنگی مشن 31 اگست کو ختم کردے گا۔ اوباما نے ايٹلانٹا ميں کہا کہ انہوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے کچھ ہی دن بعد عراقيوں کو ملکی سلامتی کی مکمل ذمہ داری منتقل کر دينے کی تاريخ مقرر کردی تھی اور اُس کی پابندی کی جائے گی۔

بارک اوباما کو صدارت سنبھالتے وقت بغداد کے ساتھ بش حکومت کا يہ سمجھوتہ ورثے ميں ملا تھا کہ امريکہ سن 2011 تک اپنی تمام تر فوج عراق سے نکال لے گا۔ اس وقت عراق ميں تقريباً 65 ہزار امريکی فوجی موجود ہيں۔ اوباما يکم ستمبر تک اس تعداد کو کم کر کے 50 ہزار تک کر دینے کی ہدايت دے چکے ہیں۔ صدر اوباما نے يہ بھی کہا کہ امريکی فوج اورجنگی سازوسامان کا انخلا گذشتہ کئی عشروں ميں اشياء اور عملے کی سب سے بڑی نقل و حرکت ہوگی۔

امریکی صدر نے اپنا يہ بيان ايک ايسے وقت پر ديا، جب عراق ميں تشدد ايک بار پھر زور پکڑ رہا ہے۔ بغداد ميں جاری کئے گئے ايک سرکاری اعلان کے مطابق جولائی کے مہينے ميں 535 افراد ہلاک ہوئے جن ميں 396 عام شہری، 89 پوليس اہلکار اور 50 فوجی شامل تھے۔ تاہم امريکی صدر نے کہا کہ عسکريت پسندوں کی طرف سے عراق کو غير مستحکم کرنے کی کوششوں کے باوجود عراق ميں تشدد پچھلے کئی برسوں کے دوران اپنی سب سے نچلی سطح پر آ چکا ہے۔

Bombenanschlag Irak Juli 2010

بغداد کے علاقے صدر سٹی ميں ايک سرکاری بينک پر بم حملے سے پھيلنے والی تباہی

صدر اوباما نے کہا کہ امريکہ عراق ميں عبوری مدت کے لئے کچھ فوجی دستے رکھے گا ليکن سن 2011 کے آخر تک ساری امريکی فوج عراق سے نکال لی جائے گی۔ امريکی صدر نے کہا کہ سن 2011 کے آخر تک کی عبوری مدت کے دوران عراق ميں محدود تعداد ميں تعينات امريکی فوج کا کام عراقی فوج کی تربيت اور اس کی مدد، دہشت گردی کی روک تھام کی کارروائيوں ميں عراقيوں سے تعاون اور امريکہ کی سول اور فوجی کوششوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

ریپبلکن امریکی سينيٹر مچ میک کونل نے کہا کہ اوباما عراق کی جنگ کو ختم کرنے کے اسی پروگرام پر عمل کر رہے ہيں، جو سابق صدر بش کی حکومت نے تيار کيا تھا۔

اوباما نے اپنے اسی بیان میں افغان جنگ کے لئے بھی، جس پر انہيں ملک ميں بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے، عوامی حمايت حاصل کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ افغانستان میں امریکہ کو زبردست چيلنجوں کا سامنا ہے ليکن امريکيوں کو يہ معلوم ہونا چاہئے کہ ’’ہم آگے بڑھ رہے ہيں۔‘‘

اہم بات يہ بھی ہے کہ صدر اوباما نے افغان جنگ کے بارے ميں خفيہ دستاويزات کے انکشاف اور ان ميں پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کے الزامات پر بالکل توجہ نہيں دی اور کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر عسکريت پسندوں کے خلاف جنگ کا آغاز کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور اس کی قيادت کو شديد نقصان پہنچايا جا چکا ہے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس