1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امريکا اور برطانيہ کے حوالے سے ميرکل کے بيان پر عالمی رد عمل

بريگزٹ اور امريکا ميں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے سبب لندن اور واشنگٹن کے اپنے يورپی اتحاديوں کے ساتھ روابط ايک نئے کٹھن موڑ پر کھڑے ہيں۔ جرمن چانسلر کے تازہ بيان کے بعد اب يہ تعلقات کون سا رخ اختيار کريں گے؟

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے کہا ہے کہ يورپ اب اپنے روايتی اتحادی ممالک برطانيہ اور امريکا پر مزيد انحصار نہيں کر سکتا۔ انہوں نے يہ بيان ميونخ ميں ايک ريلی سے خطاب کے دوران اتوار کے روز ديا۔ چانسلر ميرکل کے اس واضح پيغام پر نہ صرف يورپ بلکہ عالمی سطح پر رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

 امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حاميوں نے اس بيان کو مسترد کر ديا ہے جبکہ ان کے مخالفين کا موقف ہے کہ واشنگٹن اور برلن کے خصوصی باہمی تعلقات ميں خرابی منفی پيش رفت ہے۔ ڈيموکريٹ قانون ساز اور سينيٹ کی انٹيليجنس کميٹی کے اہم رکن ايڈم شف نے کہا، ’’اگر ٹرمپ اسے کاميابی کہتے ہيں تو ميں ناکامی ديکھنے کا خواہاں نہيں۔‘‘ وہ صدر  ٹرمپ کی حکومت ميں خراب ہوتے ہوئے تعلقات کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

اس کے برعکس ٹرمپ کے حامی، چانسلر ميرکل کے بيان کو ٹرمپ کی کاميابی يا مقبوليت سے تعبير کر رہے ہيں۔ بل مچل نامی ايک سياسی تجزيہ نگار کے بقول، ’’بائيں بازو کی ہيرو ميرکل کا کہنا ہے کہ وہ اب ٹرمپ پر انحصار نہيں کر سکتيں۔ در اصل ٹرمپ آپ کی بیوقوفی کی مخالفت کرتے ہيں۔‘‘

برطانيہ ميں ہوم سيکرٹری ايمبر رڈ نے اس بارے ميں کہا کہ بريگزٹ کے باوجود لندن حکومت يورپی يونين کا ساتھ ديتی رہے گی اور اس سلسلے ميں جرمنی کو يقين دہانی کرائی جائے گی۔

يورپی قانون ساز گائے فيرہوف اسٹٹ نے اس بارے ميں بات چيت کے دوران کہا کہ يورپ کے ليے وقت آ گيا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور چيزوں کو نئے سرے سے تشکيل دے۔