1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امداد کی معطلی سے پاکستان کا مالیاتی خسارہ فوری طور پر بڑھ گیا

پاکستان کے لیے امریکی عسکری امداد کی معطلی سے اگرچہ فوج کے آپریشنز فوری طور پر متاثر نہیں ہوں گے تاہم پاکستانی معیشت اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

default

معطل کی گئی 800 ملین ڈالر کی رقم میں سے 300 ملین ڈالر وہ ہیں، جو اسلام آباد حکومت کے مطابق ملکی فوج پر قومی خزانے سے خرچ کیے جاچکے ہیں اور امریکہ کو ادا کرنے تھے۔

پاکستان میں دفاعی امور کی ماہر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستانیوں کے دل جیتنے کی کوششوں میں شکست تسیلم کرتے ہوئے اب کمزور مالیاتی حالت پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ان کے بقول، ’’ امریکہ کو پتہ ہے کہ پاکستان کو رقم چاہیے، پاکستان مجبور ہے وہ امریکہ سے ناطہ نہیں توڑسکتا۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ رقم 30 جون سے پہلے پاکستان کو ملنی تھی مگر ایسا نہ ہونے سے پاکستان کا مالیاتی خسارہ بڑھ کر مجموعی قومی پیداوار کے 5.3 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ Coalition Support Fund میں سے ملنے والی اس رقم پر اُس کا حق بنتا ہے۔ پاکستان کی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق امید تھی کہ یہ رقم ملنے سے مالیاتی خسارہ کم ہوکر 5.1 فیصد ہوجاتا۔ روئٹرز کے مطابق پاکستان کو گزشتہ سال CSF کی مد میں 632 ملین ڈالر ملے تھے۔

پاکستان کی مغربی سرحدوں پر لگ بھگ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی متعین ہیں

عالمی منڈیوں میں تیل کی بلند قیمت اور پاکستان کی اہم برآمدات میں سے ایک، کپاس کی قیمت میں کمی کے سبب پاکستانی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ رواں اور گزشتہ ماہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 205 ملین ڈالر سرپلس رہا مگر موجودہ حالات کے سبب مستقبل میں صورتحال ایسی ہی رہنے کی امید بہت کم ہے۔

اگرچہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کہہ چکے ہیں کہ امداد کی معطلی سے ان کے آپریشنز پر اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ رقم مستقبل کے اخراجات سے متعلق نہیں تھی تاہم ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اس سے معیشت اور دو طرفہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM