1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امدادی رقوم کی فراہمی میں سُست رفتاری

اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کیلئے 46 کروڑڈالر امدادی رقم کی جو اپیل کی گئی تھی اس میں سے ابھی تک تقریباً 10کروڑ ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

default

ہُنزہ اور گلگت میں سیلاب زدگان امداد کے منتظر

ایک کروڑ ڈالر مزید دینے کے وعدے بھی کئے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے نگران ادارے اوچا کے اسلام آباد میں ترجمان ماریزیو گیولیانو نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہیں ''امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈونرز ممالک اور ادارے امداد دینے کے عمل کو تیز کریں گے''۔ دوسری جانب حکومت پاکستان ، اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود بعض متاثرہ علاقوں میں سیلاب زدگان کو ابھی تک کسی بھی قسم کی امداد نہیں پہنچائی جا سکی ہے۔ ان علاقوں میں گلگت بلتستان ، بالائی سوات اور اندرون سندھ کے چند علاقے شامل ہیں۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ہیومنٹیرین کوآرڈینیٹر مارٹن مگوانجا کا کہنا ہے کہ '' گلگت بلتستان کا پورا صوبہ ہماری رسائی میں نہیں۔ شاہراہ قراقرم پر واقع تین بڑے پل ٹوٹ چکے ہیں۔ اسی طرح سندھ میں اب بھی پانی بہہ رہا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ بالآخر اس کا کیا اثر ہوگا۔''

Überschwemmung in Pakistan

کالام میں امریکی فوجی امدادی اشیائے پہنچانے کی کوششیں کرتےہوئے

UNHCR کے ایک نمائندے منگیشا کبیدے کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلابوں کا آغاز بلوچستان کے صوبے سے ہوا لیکن وہاں کے متاثرین پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا سکی۔ '' یہ آفت22 جولائی کو بلوچستان سے شروع ہوئی اور ہم دریائے سندھ اور کابل کو کراچی تک دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیں ایسا کرتے ہوئے متاثرین کے اس پہلے اور دوسرے گروہ کو نہیں بھولنا چاہئے جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں جو متاثر ہوئے ہیں اور یکساں طور پر ضرورت مند بھی ہیں۔''

Pakistans Aussenminister Shah Mahmood Qureshi

پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق سیلاب متاثرین کی تعداد ڈیڑھ سے دو لاکھ ہے

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق حالیہ سیلابوں میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں لیکن یہ امر قابل غور ہے کہ اقوام متحدہ صرف60 لاکھ لوگوں کو خوراک پہنچانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اس بارے میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے کنٹری ڈائر یکٹروولف گانگ ہربینگر کا کہنا ہے کہ: '' ہم اگلے دس دن میں 20 لاکھ لوگوں تک پہنچیں گے اور بے شک ہم ان لوگوں کو ترجیح دیں گے جو زیادہ ضرورت مند ہیں اور ہمارے پاس ایسے 60 لاکھ لوگوں کی معلومات ہیں۔''

امدادی ایجنسیوں کے اہلکار مسلسل یہ انتباہ بھی کر رہے ہیں کہ اگر متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن تیز نہ کیا گیا تو پھر غذائی قلت اور وبائی امراض پھوٹنے سے اموات کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM

ویب لنکس