1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

امدادی ادارے یا مہاجرین کو یورپ لانے کی ’ٹیکسی سروس‘؟

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بحیرہ روم میں سرگرم امدادی اداروں کے دفاع اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے کچھ امدادی اداروں پر انسانوں کے اسمگلروں کے ساتھ مل کر مہاجرین کو یورپ پہنچانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے بحیرہ روم میں تارکین وطن اور مہاجرین کو بچانے کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کی خدمات کو سراہا ہے۔ گزشتہ ماہ اطالوی پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ بحیرہ روم میں مہاجرین اور تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سرگرم یہ غیر سرکاری تنظیمیں دراصل انسانوں کے اسمگلروں کے ساتھ مل کر تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر یورپ پہنچا رہی ہیں۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کے نگران ادارے ’فرنٹیکس‘ نے بھی ان امدادی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یورپ کی جانب غیر قانونی مہاجرت میں ’ٹیکسی سروس‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

حالیہ عرصے کے دوران لیبیا اور دیگر شمالی افریقی ممالک سے تارکین وطن کو کشتیوں کے ذریعے یورپی ساحلوں تک پہنچانے والے انسانوں کے اسمگلر انہیں یورپی ساحلوں تک لے جانے کے بجائے بحیرہ روم میں موجود امدادی اداروں کے بحری جہازوں تک پہنچا رہے تھے۔ یہ ادارے خستہ حال کشتیوں میں سوار تارکین وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچاتے ہوئے انہیں اپنے بحری جہازوں میں لے آتے ہیں اور بعد ازاں انہیں اٹلی پہنچا دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ان پر انسانوں کے اسمگلروں کی معاونت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں فلیپو گرانڈی نے ان امدادی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا، ’’این جی اوز اطالوی کوسٹ گارڈز اور فرنٹیکس کی مشترکہ اور انتھک امدادی کارروائیاں ستائش کے قابل ہیں۔ ان اداروں نے مل کر ہزاروں انسانوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ 2016ء میں امدادی اداروں نے چھیالیس ہزار سے زائد تارکین وطن کو سمندر برد ہونے سے بچایا جو کہ تمام ریسکیو آپریشنز میں بچائے گئے مہاجرین کا چھبیس فیصد بنتا ہے۔ رواں برس ان امدادی اداروں کا حصہ تینتیس فیصد سے زائد رہا ہے۔‘‘

صرف گزشتہ جمعے اور ہفتے کے روز ہی اڑتالیس گھنٹوں کے دوران چھ ہزار سے زائد تارکین وطن کو بحیرہ روم میں ڈوبنے سے بچایا گیا۔ ان دو دنوں میں چالیس سے زائد امدادی کارروائیاں کی گئیں جن میں اطالوی ساحلی محافظوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز اور ایس او ایس جیسے امدادی اداروں نے بھی حصہ لیا تھا۔ اطالوی سیاست دان ان دو اداروں کو بالخصوص تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جب کہ یہ غیر سرکاری تنظیمیں ایسے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر رہی ہیں۔

یونان میں چند پیسوں کی خاطر جسم بیچتے پاکستانی مہاجر بچے

DW.COM