1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امدادی ادارے ہمارے کنٹرول والے علاقوں میں کام کریں، طالبان

طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان میں کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اُن علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں شروع کریں، جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یہ مطالبہ بدھ پانچ اپریل کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں سامنے آیا ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق طالبان کی طرف سے یہ مطالبہ امدادی تنظیموں اور خاص طور پر اسلامی امدادی تنظیموں سے کیا گیا ہے کہ وہ ’’اسلامی امارات کے کنٹرول والے علاقے میں عام افغانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔‘‘

امریکی ذرائع کے مطابق افغان حکومت اس وقت افغانستان کے مجموعی طور پر 60 فیصد سے بھی کم علاقے پر اپنا کنٹرول رکھتی ہے جبکہ بقیہ 40 فیصد سے زائد علاقے میں سے زیادہ تر طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

Symbolbild Terrorismus Afghanistan (Getty Images/AFP/N. Shirzada)

طالبان کی طرف سے بدھ پانچ اپریل کو سامنے والا یہ بیان اپنی نوعیت کا تیسرا ایسا پیغام ہے

ڈی پی اے کے مطابق بدھ پانچ اپریل کو سامنے والا یہ بیان اپنی نوعیت کا تیسرا ایسا پیغام ہے۔ قبل ازیں جاری ہونے والے بیانات میں بھی ایسی امدادی تنظمیوں کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جو پہلے طالبان کی تنقید میں زد میں رہا کرتی تھیں۔ دوسری طرف امدادی ادارے طالبان کے کنٹرول والے علاقوں تک رسائی نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں جبکہ امدادی منصوبوں اور امدادی کارکنوں پر حملوں کی شکایات بھی عام ہیں۔

Afghanistan Talibanangriff in Lashkar Gah (picture alliance/dpa/W. Yar)

2016ء کے دوران طالبان کے حملوں میں 15 امدادی کارکن ہلاک ہوئے

اقوام متحدہ کے مطابق محض سال 2016ء کے دوران امدادی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کے 200 سے زائد واقعات ہوئے، جن میں 15 امدادی کارکن ہلاک بھی ہوئے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بین الاقوامی امدادی اداروں کے کارکن سفر کے دوران ایسی کوئی شناختی چیز اپنے ساتھ نہیں رکھتے، جس سے معلوم ہو سکے کہ اُن کا تعلق کسی غیر ملکی این جی او یا امدادی ادارے سے ہے۔ اس کی وجہ اغوا کیے جانے یا مارے جانے کا خوف ہوتا ہے۔