1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

امدادی اداروں نے سمندر سے مزید سات سو تارکین وطن کو بچا لیا

امدادی اداروں نے لیبیا کے سمندری پانیوں کے قریب تارکین وطن سے کھچا کھچ بھری سات کشتیوں کو بچا کر ان پر موجود سات سو سے زائد تارکین وطن کو ریسکیو کر لیا ہے۔

اطالوی کوسٹ گارڈز کی جانب سے بدھ پانچ اپریل کی شام بتایا گیا کہ یہ شکستہ حال کشتیاں بحیرہء روم کی موجوں سے نبردآزما تھیں، تاہم انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی کئی تنظیموں کی کشتیوں نے ان تارکین وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا۔

بتایا گیا ہے کہ مالٹا سے تعلق رکھنے والی تنظیم MOAS کے فینِکس نامی ریکسیو شپ نے لیبیا کے شہر صبراتہ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں تین سو سے زائد تارکین وطن کو بچایا۔

دی ایکُوئیریس نامی ایک دوسرے امدادی جہاز نے بھی سمندری موجوں کی نذر ہوتی ربر کی چار کشتیوں سے تارکین وطن کو ریسکیو کیا۔ یہ امدادی جہاز ایس او ایس میڈیٹیرینیئن اور ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز جیسی تنظیموں کے زیرانتظام کارروائیاں کرتا ہے۔ اطالوی کوسٹ گارڈز نے ان تمام ریسکیو آپریشنز کی نگرانی کی۔

Mittelmeer Flüchtlinge Rettungsaktion (Reuters/Marina Militare)

یہ خطرناک راستہ ہزاروں افراد کو نگل چکا ہے

حکام کے مطابق شمالی افریقہ سے اطالوی جزائر کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں رواں برس تیس فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے جب کہ رواں برس اس خوف ناک راستے میں زندگی کی بازی ہار جانے والے مہاجرین کی تعداد بھی قریب چھ سو تک پہنچ چکی ہے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت IOM کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز بحیرہء روم سے کوئی لاش نہیں ملی، تاہم یہ سمندر روزانہ ہی کی بنیاد پر انسانی لاشیں اگلتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس مارچ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد ترکی سے بحیرہء ایجیئن کے راسے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی ہوئی ہے، تاہم اب تارکین وطن شمالی افریقہ سے بحیرہء روم عبور کر کے یورپی یونین میں داخل ہونے کے انتہائی خطرناک راستے کا انتخاب کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی اسی راستے میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔