امجد صابری، یہ چراغ روشن رہے گا | فن و ثقافت | DW | 12.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

امجد صابری، یہ چراغ روشن رہے گا

عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کو گزشتہ برس سولہ رمضان کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اسلامی کیلنڈر کے مطابق اُن کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے۔

پینتالیس سالہ امجد صابری جنوبی ایشیا کے معروف قوالوں میں شمار کیے جاتے تھے اور اُنہوں نے اپنی منقبت اور نعت گوئی سے عالمی سطح پر نام کمایا۔ امجد صابری نے بہت کم سنی سے ہی اپنے والد غلام فرید صابری سے فن قوالی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دی تھی اور بارہ سال کی عمر میں پہلی بار اسٹیج  پر والد کے ساتھ پرفارم کیا۔

 اُن کا تعلق پاکستان کے مشہور قوال گھرانے سے تھا۔ اُن کے والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول صابری کے اس گروپ نے ’صابری برادران‘ کے نام سے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ نوجوان نسل میں قوالی کا شوق پیدا کرنے میں امجد علی صابری کا کردار بہت اہم ہے۔

خود امجد کی ترتیب دی ہوئی قوالیوں اور عارفانہ کلام کو  بھی عوام الناس میں بہت پذیرائی ملی لیکن اپنے والد اور چچا کی گائی ہوئی معروف قوالیوں کو جب اُنہوں نے اپنے انداز میں پیش کیا تو یہ کلام جیسے امر ہو گیا۔ اِن قوالیوں میں ’تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم‘ ، ’بھر دو جھولی مری‘ اور میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا‘ جیسی قوالیاں شامل ہیں۔

گزشتہ برس نومبر کے اوائل میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر اعلٰی مراد علی شاہ نے ایک نیوز کانفرنس میں امجد علی صابری کے قتل میں ملوث دو ملزمان کی گرفتاری کا دعوی کیا تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق ابھی تک کسی ملزم پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی۔

امجد صابری کی پہلی برسی کے موقع پر اُن کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر اُن کو یاد کرتے ہوئے امجد کی گائی قوالیاں اور دیگر صوفی کلام پوسٹ کیا ہے۔

ٹویٹر پر ایک صارفہ سیدہ مریم لکھتی ہیں، ’’ امجد صابری ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے۔‘‘

ایک اور صارف مامون نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا ہے، ’’ آپ کو کبھی بھلایا نہیں جائے گا۔‘‘

 پاکستان کے مقامی میڈیا نے بھی آج امجد صابری کی پہلی برسی کے موقع پر اس موضوع کو اپنی اشاعتوں میں خصوصی جگہ دی ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق  آج امجد صابری کی جائے ہلاکت پر شمعیں اور چراغ روشن کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ امجد صابری کے اہلِ خانہ نے چند روز قبل صابری کی پہلی برسی اسلامی کیلنڈر کے مطابق منانے کا اعلان کیا تھا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic