1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امتیازی سلوک نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پیچھا نہ چھوڑا

تیزی سے ترقی کرنے والے بھارت کے بڑے شہروں میں نچلے سماجی طبقعات کے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات میں کچھ کمی آئی ہے تاہم متعدد علاقوں میں یہ سلسلہ پہلے ہی کی طرح جاری ہے۔ اس کی ایک مثال رام کرشنن کی کہانی ہے۔

default

بھارت میں دلتوں کا شمار نچلی ذات کے ہندوؤں میں ہوتا ہے۔ بھارتی ریاست کیرالہ کا رہائشی اے ۔کے۔ رام کرشنن بھی دلت ہے۔ رام کرشنن ایک سول ملازم تھا اور وہ وزارت رجسٹریشن اور ماہی گیری میں انسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہا۔ اس دوران اس کا اپنا ایک علحیدہ دفتر بھی تھا۔ مارچ کے آخر میں رام کرشنن ریٹائر ہو گیا لیکن اس کے دفتر والوں نے اس کے جانے کے فوراً بعد ہی ایک ایسی حرکت کی، جس نے اسے مزید افسردہ کر دیا۔ انہوں نے رام کرشنن کے دفتر کو گائے کے گوبر ملے پانی سے دھو ڈالا تا کہ اسے ’پاک‘ کیا جا سکے۔

اس بات کا جیسے ہی رام کرشنن کو معلوم ہوا تو اس نے ریاست کیرالہ میں انسانی حقوق کےکمیشن سے رابطہ کیا۔ اس کے بقول،’’ریٹائر منٹ کے بعد میرے دفتر والوں نے میرے آفس میں موجود تمام فرنیچر اور یہاں تک کے میرے استعمال میں رہنے والی گاڑی کو بھی گوبر ملے پانی سے دھویا ہے‘‘۔ اس کے بقول وہ پانچ سال تک اس آفس میں کام کرتا رہا ہے۔ اس دوران بھی اس کے ساتھ کئی ایسے واقعات پیش آئے، جن سے اسے یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ وہ ایک دلت ہے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد جو کچھ ہوا، اس سے اسے بہت ہی صدمہ پہنچا ہے۔

بھارت میں گائے ایک مقدس جانور ہے اور اکثر لوگ مختلف جگہوں کو پاک صاف کرنے کے لیے گائے کا گوبر استعمال کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ علاقوں میں اگر کسی کا انتقال بھی ہوجائے تو آخری رسومات کے بعد پاک کرنے کے لیے گھر کو گوبرمیں پانی ملا کر دھویا جاتا ہے۔ کیرالہ کا شمار بھارت کی ان ریاستوں میں ہوتا ہے، جہاں شرح خواندگی بہت زیادہ ہے، وہاں کے لوگ سماجی اور سیاسی طور پر بھی بہت باشعور اور باخبر ہیں۔ رام کرشنن نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے روز اس کے ساتھیوں نے پٹاخے پھوڑے اور خوشیاں منائیں۔ ’’میں ان کے اس رویے کے خلاف سنجیدہ اقدامات کروں گا۔‘‘

رجسٹریشن اور ماہی گیری کے ریاستی وزیر ایس شرما نےکہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بھارت میں ایک اندازے کے مطابق 165ملین دلت ہیں۔ سرکاری سطح پر ذات پات کو نظر میں رکھتے ہوئے امتیازی سلوک برتنے پر پابندی ہے لیکن عام زندگی میں اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ نچلی ذات کے لوگ سمجھے جانے والے دلتوں کو کسی بڑے عہدے پر پہنچنے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ اسی ناامیدی کی وجہ سے ان میں تعلیم کی کمی ہے اور زیادہ تر دلت غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس