1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’امتحان سے بھاگنے والے بچوں کے ليے امتحان ہی باعث مسرت‘

شام ميں گزشتہ قريب پانچ برسوں سے جاری خانہ جنگی کے سبب قريب دو ملين بچے تعليم کی سہولت سے محروم ہيں جبکہ اسی دوران مختلف علاقوں ميں کئی مختلف اقسام کے تعليمی نظام بھی چل رہے ہيں۔

شامی باشندے احمد محمد نے کبھی يہ سوچا بھی نہ تھا کہ فائنل امتحان کے پرچے دينا اس کے ليے باعث مسرت بھی ہو سکتا ہے تاہم تقدير اپنے ہی کھيل کھيلتی ہے۔ طويل انتظار کے بعد سترہ سالہ احمد کو اس کے ہم عمر قريب ساڑھے چھ سو ديگر طلباء کے ہمراہ بسوں پر سوار کر کے شامی شہر الحسکہ لے جايا گيا جہاں بالآخر ان بچوں نے اسی ماہ اپنے ہائی اسکول کے امتحانات ديے۔ شمالی صوبے الرقعہ کے مختلف حصوں سے بچوں نے قريب دو سو کلوميٹر کا سفر طے کيا۔

احمد کے بقول سن 2014 ميں اسلامک اسٹيٹ کے شدت پسندوں نے اس کے اسکول پر قبضہ کر ليا تھا۔ اس کے بعد سے احمد نے کلاس روم کی شکل تک نہيں ديکھی۔ وہ بتاتا ہے، ’’انہوں نے ہمارے اسکول کو ايک قيد خانے ميں تبديل کر ديا تھا۔‘‘ احمد کہتا ہے کہ جب کبھی وہ تل ابياد ميں اپنے اسکول کے پاس سے گزرتا، تو اس کا دل بھر آتا۔ وہ اپنے ساتھيوں کے ساتھ بتايا ہر وقت ياد کيا کرتا تھا، جو سب کے سب جنگ سے فرار ہو کر دنيا کے مختلف حصوں کی طرف چلے گئے ہيں۔

احمد کے بقول اب دوبارہ اسکول جانا اس کے ليے بالکل ايسا ہی ہے کہ جيسے اسے ايک نئی زندگی مل گئی ہو۔ اس نے کہا، ’’ميرے ليے مستقبل کافی تاريک تھا ليکن يہ سب کچھ آج بدل گيا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق شام ميں تقريباً دو ملين بچے اسکول جانے اور تعليم سے محروم ہيں

اقوام متحدہ کے مطابق شام ميں تقريباً دو ملين بچے اسکول جانے اور تعليم سے محروم ہيں

اقوام متحدہ کے مطابق شام ميں تقريباً دو ملين بچے اسکول جانے اور تعليم سے محروم ہيں۔ اسلامک اسٹيٹ نے اپنے زير قبضہ علاقوں ميں مذہبی تعليمات پر مبنی اپنا ايک مختلف نصاب متعارف کرا رکھا ہے، جس کے ساتھ بچوں کو لڑنے کی تربيت بھی دی جاتی ہے۔

شام ميں پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتيجے ميں سرکاری تعليمی اداروں کے فقدان کی وجہ سے تعليم کے فراہمی کے متبادل طريقے نشو نما پا رہے ہيں۔ نيم خود مختار کرد انتظاميہ اپنے علاقوں ميں اپنے اسکول چلاتی ہے، جہاں ايک عرصے سے پابندی کی شکار کرد زبان بھی سکھائی جاتی ہے۔ دريں اثناء باغيوں کے زير کنٹرول علاقوں ميں اپوزيشن کی زير نگرانی مقامی کونسليں اسکولوں کے معاملات ديکھتی ہيں۔