1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

الیکٹرک گاڑی کی چھت ہی اس کی بیٹری

برطانیہ میں ایک ایسا نینو مٹیریل تیار کیا گیا ہے جس کے بارے میں سائنسدانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس کے استعمال سے مستقبل میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی چھتیں، دروازے اور بُوٹ یعنی ڈِگی ہی بیٹری کا کام انجام دیں گی۔

default

برطانوی محققین نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعےکاربن فائبر اور پولیمر ریسِن کا ایک ایسا مرکب تیار کیا جس کو نہ صرف چارج کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک عام بیٹری کی طرح اس سے برقی توانائی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ کامیاب تجربات ابھی صرف لیبارٹری تک ہی محدود ہیں۔

امپیریل کالج لندن کے ایک محقق کا کہنا ہے کہ اگر اس مٹیریل کو زیادہ مقدار میں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی جائے تو یہ ہائبرڈ اور الیکٹرک کاروں کو توانائی فراہم کرنے والی موجودہ بیٹریوں پر کئی طرح سے فوقیت کا حامل ہوگا۔

بجلی سے چلنے والی گاڑیوں میں استعمال کی جانے والی موجودہ لیتھیم آئن بیٹریاں نہ صرف وزن میں بہت بھاری ہوتی ہیں بلکہ ان میں استعمال ہونے والے عنصر لیتھیم کی کم مقدار میں دستیابی کی وجہ سے اس کی قیمت میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے ان بیٹریوں کی قیمتیں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔

Deutschland Autoindustrie IAA Tesla Roadster Flash-Galerie

امریکی الیکٹرک گاڑی ٹیسلا روڈسٹر جس کا وزن 12 سو کلوگرام ہے جبکہ اس میں سے 450 کلو گرام وزن صرف بیٹریوں کا ہے۔

نئے مٹیریل کی تیاری پر فی الحال تو اخراجات بہت زیادہ آئے ہیں، تاہم اسے چونکہ مکمل طور پر مصنوعی مادوں سے تیار کیا گیا ہے، لہٰذا اس کی بڑے پیمانے پر تیاری قدرتی وسائل کی دستیابی کی محتاج نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ روایتی بیٹریوں میں کیمیائی عمل کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی ممکن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان بیٹریوں میں برقی توانائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بھی کمی آتی جاتی ہے۔ تاہم کاربن اور پولیمر کے اس مرکب میں چارج کرنے اور بجلی کے حصول کے لئے کسی کیمیائی عمل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لہٰذا اس مٹیریل سے تیار کردہ بیٹریاں نہ صرف دیرپا ہوں گی بلکہ انہیں چارج کرنے کے لئے وقت بھی کم درکار ہوگا۔

دوسری طرف چونکہ یہ مادہ عام سٹیل کی طرح سخت ہوتا ہے، لہٰذا سٹیل کی بجائے اسے کاروں کی باڈی بنانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں کار کی باڈی ہی بیٹری کا کام سرانجام دے گی، جس سے ایسی کار کا وزن کسی بھی موجودہ گاڑی کی نسبت ایک تہائی رہ جائے گا۔

امریکہ میں تیار کی جانے والی ٹیسلا روڈسٹر Tesla Roadster نامی الیکٹرک گاڑی کا وزن 12 سو کلوگرام ہے جبکہ اس میں سے ایک تہائی سے زیادہ یعنی 450 کلو گرام وزن صرف بیٹریوں کا ہے۔ ایک مرتبہ مکمل چارج کرنے کی صورت میں یہ گاڑی تقریباﹰ 300 کلو میٹر تک سفر کرتی ہے۔

اس ایجاد کے شریک محقق اور امپیریل کالج کے انجینئرGreenhalg کے مطابق نئے مٹیریل کے استعمال سے بیٹری کا وزن یعنی 450 کلو گرام تو خود بخود کم ہو جائے گا جس کے باعث ایسی کار نہ صرف زیادہ تیز رفتار ہوگی بلکہ ایک مرتبہ چارج کرنے کی صورت میں زیادہ طویل فاصلہ بھی طے کرسکے گی۔

گرین ہالگ کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ نئے بنائے گئے مٹیریل کا وزن عام سٹیل کی نسبت ایک چوتھائی ہے، لہٰذا اس سے تیار کی گئی گاڑی کی باڈی کا وزن اسٹیل باڈی کی نسبت ایک چوتھائی رہ جائے گا جبکہ وہ سٹیل باڈی کی طرح سخت اور مضبوط بھی ہوگی۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ ٹینس ریکٹ یا مچھلیاں پکڑنے والے راڈ کی صورت میں دیکھتے ہیں، جو کہ کاربن فائبر سے تیار کئے جاتے ہیں۔ یہ کم وزن ہونے کے باوجود مضبوط اور سخت ہوتے ہیں۔

تاہم اب محققین اس مرکب کی مکینیکل خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے فائبرز کی سطح کا رقبہ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس لئے کہ رقبہ جتنا زیادہ ہوگا، اس میں چارج جمع رکھنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

حال ہی میں یورپی یونین نے اعلان کیا کہ وہ امپیریل کالج کے ساتھ مل کر اگلے تین برس کے دوران اس نئی ٹیکنالوجی کی تیاری کے لئے 34 لاکھ یورو خرچ کرے گی۔ اس منصوبے میں جرمنی،برطانیہ، سویڈن اور یونان کی نو سے زائد کمپنیاں شریک ہوں گی۔ دوسری طرف سویڈن کے کارساز ادارے Volvo موٹرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ بجلی سے چلنے والی اپنی ایک حالیہ گاڑی میں تجرباتی طور اس مٹیریل سے تیارکردہ ایک پینل نصب کرے گا۔

محققین کا اندازہ ہے کہ اگلے تین برس کے دوران اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے کاروں کے وزن میں کم از کم 15 فیصد کمی ہوجائے گی جبکہ اگلے چھ سال کے عرصے میں اس مٹیریل سے کاروں کی باڈیاں بنائی جانے لگیں گی۔

تاہم امپیریل کالج کے انجینئرگرین ہالگ کا کہنا ہے کہ نئے مٹیریل کو مکمل طور پر موجودہ بیٹریوں کی جگہ لینے میں کم از کم 10 برس کا وقت لگے گا۔ اس ساری صورتحال میں ایک اہم سوال قیمت کا بھی ہے، چو نکہ عام سٹیل کی نسبت کاربن فائبر کافی مہنگا ہے۔ گرین ہالگ کے مطابق اس مٹیریل کی بڑے پیمانے پر تیاری کی صورت میں شاید اس کی قیمت میں کمی بھی لائی جاسکے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : مقبول ملک