الیکشن شروع، لیکن کیا مصر میں تبدیلی ممکن ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 18.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الیکشن شروع، لیکن کیا مصر میں تبدیلی ممکن ہے؟

مصر میں پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع تو ہو گیا ہے لیکن مبصرین کے مطابق کسی سیاسی تبدیلی کے بجائے ملک کی نئی پارلیمان صدر السیسی کے اقتدار کو ہی مضبوط کرے گی۔

مصر میں سن 2012ء میں ایک عدالت کی جانب سے تحلیل کیے جانے کے بعد سے اب تک پارلیمان موجود نہیں۔ تب اس پارلیمان میں صدر محمد مرسی اور اخوان المسلمین کے حامیوں کو اکثریت حاصل تھی۔ جولائی 2013ء میں صدر محمد مرسی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی مصر میں پہلی مرتبہ پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اتوار کے دن اس الیکشن کے پہلے مرحلے کے ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ طویل انتظار کے بعد منعقد کیے جا رہے اس پارلیمانی الیکشن کو اگرچہ حکام نے جمہوری دور کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے لیکن دوسری طرف مبصرین کے مطابق زیادہ امیدوار صدرعبدالفتاح السیسی کے حامی ہیں اور جب وہ ایوان میں پہنچیں گے تو اس سے صدر السیسی کو مزید طاقت حاصل ہو جائے گی۔

یہ امر اہم ہے کہ معزول صدر مرسی کی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اس الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی ہے۔ پابندی کی شکار اس جماعت نے گزشتہ الیکشن میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن بعد ازاں عوامی مظاہروں کے نتیجے میں فوج نے صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا تھا اور ملک میں عبوری حکومت قائم کر دی تھی۔

مصر کے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج دسمبر تک سامنے آئیں گے۔ انتظامی اور سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر یہ الیکشن مختلف مرحلوں میں منعقد کرائے جا رہے ہیں۔ ملکی ایوان زیریں کی کل 596 نشستوں کے لیے اس انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی یقینی بنانے کی خاطر ایک لاکھ پچاسی ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انتخابات سے قبل صدر السیسی نے اپنے نشریاتی خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے مصر کے مستقبل کو تابناک بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص نوجوان نسل کو آگے بڑھنا چاہیے اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے انہیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم ایسے اندازے ہیں کہ ووٹ ڈالنے کا شرح کم رہے گی۔

اپوزیشن گروہوں نے موجودہ سیاسی نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان تک وہی امیدوار پہنچ پائیں گے، جو صدر السیسی کے حامی ہوں گے۔ حال ہی میں دستور پارٹی کو خیر باد کہنے والے خالد داؤد نے روئٹرز کو بتایا، ’’ممبر پارلیمان بننا دراصل حکومت کے قریب ہونے کا موقع فراہم کرے گا، یہ ایسا ہی ہے کہ وہ حکومت کے ایک کلب کی ممبرشپ لے رہے ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی بھی ممبر پارلیمان حکومت پر تنقید نہیں کر سکے گا۔

Ägypten Parlamentswahl 2015

معزول صدر مرسی کی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اس الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی ہے

اس الیکشن میں اسلام پسند نور پارٹی بھی حصہ لے رہی ہے، جو مصر میں سخت اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں یہ پارٹی دوسرے نمبر پر آئی تھی لیکن مرسی کے اقتدار کے خاتمے پر فوج کا ساتھ نبھانے کی وجہ سے اب اس کی عوامی مقبولیت کافی کم ہو چکی ہے۔

پہلے مرحلے کی ووٹنگ اٹھارہ اور انیس اکتوبر کو ہو گی، جس میں مصر کے دوسرے سب سے بڑے شہر سکندریہ سمیت چودہ صوبوں میں ووٹنگ منعقد کی جائے گی۔ دوسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ بائیس اور تئیس نومبر کو ہو گی، جس میں دارالحکومت قاہرہ سمیت ملک کے تیرہ علاقوں کے ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ملکی الیکشن کمیشن کے مطابق حتمی سرکاری نتائج دسمبر تک متوقع ہیں۔