1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الیکشن سے دو روز قبل کابل میں ایک اور حملہ

افغان دارالحکومت میں آج منگل کو بھی ایک خودکش بم حملے میں نیٹو کے ایک فوجی سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب افغانستان کے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

default

کابل میں نیٹو ہیڈکوارٹرز کے گیٹ کے باہر خودکش حملے کے بعدکا منظر

افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اب محض دو دن باقی ہیں لیکن طالبان عسکریت پسندوں نے اس مرتبہ انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر رخنہ ڈالنے کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی دھمکیاں محض دھمکیاں ثابت نہیں ہورہیں۔ اس ماہ کے آغاز سے اب تک طالبان عسکریت پسند دارالحکومت کابل میں ہی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور افغان سیکیورٹی فورسز کو دو مرتبہ اپنےحملوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

سن 2009ء کے صدارتی انتخابات سے عوام کو دور رہنے کی دھمکی دینے والی تنظیم طالبان کے مسلح باغیوں نے ابھی حال ہی میں کابل میں نیٹو ہیڈکوارٹرز کے باہر خودکش حملہ کیا۔

Wahlen Afghanistan 2009

طالبان نے اس مرتبہ صدارتی انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی باقاعدہ طور پر دھمکیاں دے رکھی ہیں

آج بھی کابل میں ایک خودکش حملہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے کا نشانہ غیرملکی فوجی تھے تاہم اس کے نتیجے میں چھہ شہری بھی ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں اقوام متحدہ کی ایک گاڑی کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔

اس سے قبل صدارتی محل کے کمپاوٴنڈ میں ایک راکٹ جا گرا لیکن صدر حامد کرزئی کے ترجمان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق صدارتی محل کی طرف چار راکٹ داغے گئے تھے۔

Flash-Galerie Wahlen in Afghanistan 2009

سابق وزیر خارجہ اور اب صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ ایک انتخابی ریلی کے دوران

جمعرات، بیس اگست کو لاکھوں افغان رائے دہندگان صدارتی انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کر کے نئے صدر کا انتخاب کرنے والے ہیں۔ لیکن کیا افغانستان میں انتخابات کے حوالے سے حالات سازگار ہیں؟ اس حوالے سے کابل میں موجود بھارتی نجی ٹیلی ویژن چینل سہارا سَمے سے وابستہ سرکردہ صحافی بلال بھٹ کہتے ہیں:

’’سیکیورٹی کے اعتبار سے افغان صوبوں ہرات، ہلمند، بامیان، کابل اور قندھار کو ریڈ زون قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکار نے حفاظت کے سخت ترین انتظامات کئے ہیں جبکہ کابل میں امریکی فوجیوں نے نقل و حمل پر نظر رکھنے کے لئے متعدد کیمروں سے لیس ایک جاسوسی نظام نصب کر رکھا ہے، جس کے ذریعے پورے کابل شہر پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس نظام کے باوجود پچھلے پانچ دنوں میں کابل میں ہی دو خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ ابھی تک لگتا یہی ہے کہ یہ نظام ناکام ثابت ہو رہا ہے۔‘‘

Flash-Galerie Wahlen Afghanistan

سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کے باوجود کابل میں خودکش حملے ہورہے ہیں

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ ووٹ خریدنے کے لئے بعض صدارتی امیدواروں نے اپنے حامیوں کے ذریعے ووٹنگ کارڈز کی خرید و فروخت شروع کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ایک ووٹنگ کارڈ دس دَس ڈالر میں بک رہا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی صحافی بلال بھٹ کہتے ہیں:

’’یہاں ایک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف سے صحافیوں کو انتخابی ریلی کی کوریج کرنے کے لئے بیس امریکی ڈالرز تک کی ٹپ دی جا رہی ہے۔ جب یہ حال ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ووٹر کارڈز کا کیا حشر ہوگا۔‘‘

موجودہ صدر حامد کرزئی اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ سمیت تیس سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ بیشتر جائزوں میں صدارت کے عہدے کے لئے حامد کرزئی ہی کی کامیابی کے امکانات روشن بتائے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی، ادارت: امجَد علی

Audios and videos on the topic