1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الیاس کشمیری کی ہلاکت، متضاد خبریں

سینئر القاعدہ رہنما الیاس کشمیری کی ہلاکت کے حوالے سے پاکستانی اور امریکی حکّام کے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں فی الوقت کسی کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

default

محمّد الیات کشمیری

دو روز قبل پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے شمالی مغربی علاقے میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں القاعدہ کا رہنما الیاس کشمیری ہلاک ہو گیا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے بھی کشمیری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سو فیصد یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کشمیری کی ان حملوں میں موت ہو گئی ہے۔ تاہم امریکی حکّام کا کہنا ہے کہ وہ کشمیری کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں۔

اب پیر کی شام امریکی حکّام کا تازہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ الیاس کشمیری ہلاک نہیں ہوا۔ امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کشمیری کی ہلاکت کی خبر غلط نکلی ہو۔ ہم اس کی موت کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہے۔‘

Osama bin Laden / Video / USA / NO-FLASH

بن لادن کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ آپریشن میں پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کیا تھا

ایک دوسرے امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ کشمیری اب بھی زندہ ہے تاہم اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ شاید وہ امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ہو۔

ان امریکی عہدیداروں نے روئٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات چیت کی۔

پاکستانی اور امریکی حکّام کے ان متضاد بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان اب بھی پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد سے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ الیاس کشمیری کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبر سن دو ہزار نو میں بھی سامنے آ چکی ہے۔ یہ خبر بعد ازاں غلط ثابت ہوئی۔

الیاس کشمیری القاعدہ سے منسلک حرکت الجہادِ اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے بھارت کے لیے بھی انتہائی مطلوب شخص سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM