1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

الیاس کشمیری کی موت بھی معمہ بن گئی

عسکریت پسند الیاس کشمیری کی موت کو چار دن گزر چکے ہیں لیکن اس کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی بھی ایسا ثبوت نہیں ملا، جس سے پتہ چلتا ہو کہ وہ ہلاک ہو چکا ہے۔

default

الیاس کشمیری کا آبائی گاؤں تاٹھی ہے، جو دارالحکومت اسلام آباد سے چھ گھنٹے کی مسافت پر پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی سرحد کے قریب واقع ہے۔ الیاس کشمیری کے بڑے بھائی چودھری اصغر کشمیری کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چھ برسوں سے الیاس کو نہیں دیکھا۔ غصے سے بات کرتے ہوئے اصغر نے کہا کہ الیاس کی کمزور بیوی اور چار بچوں کا خرچ بھی انہیں اٹھانا پڑتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے 50 سالہ اصغر کا کہنا ہے کہ ’انہیں نہیں یقین کہ الیاس کشمیری ہلاک ہو چکا ہے‘۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اصغر نے کہا کہ جب تک صورتحال واضح نہیں ہو جاتی، الیاس کشمیری کے اہلخانہ سے کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

Pakistan Anschlag USA Drohnenangriff Flash-Galerie

چار روز قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ الیاس کشمیری ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکا ہے۔

الیاس کشمیری کا سب سے بڑا 18 سالہ بیٹا خالد الیاس، 15 سالہ بیٹی مریم، 12 سالہ اسامہ اور 8 سالہ حضیفہ اپنی والدہ کے ہمراہ بھارتی لائن آف کنٹرول کے قریب رہتے ہیں۔

تاٹھی گاؤں کے زیادہ تر افراد غریب ہیں اور ان کا انحصار زراعت اور مال مویشیوں پر ہے۔ گاؤں کے اکثر لڑکے فوج میں بھرتی ہوتے ہیں۔

اصغر کا کہنا ہے، ’’ہم نے اس کی لاش یا اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ نہیں دیکھا۔ ہمیں جب تک کوئی ثبوت نہیں دیا جاتا، ہم یقین نہیں کر سکتے کہ وہ ہلاک ہو چکا ہے۔ ہم ٹھوس ثبوت چاہتے ہیں‘‘۔

اسلامی قوانین کے مطابق کشمیری کے اہلخانہ کو اس کی ہلاکت کی اطلاع دی جانی چاہیے لیکن اصغر کے مطابق ان سے ابھی تک کسی بھی حکومتی اہلکار نے رابطہ نہیں کیا، ’خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھی ہمارے پاس آ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ آیا ہمیں کشمیری کی ہلاکت کی کوئی اطلاع ملی ہے یا نہیں‘۔

اصغر کے مطابق وہ آخری مرتبہ 2005ء میں اپنے بھائی سے ملے تھے، جب وہ جیل سے رہا ہوا تھا۔ اصغر نے بتایا ہے کہ کشمیری نے کبھی گھر پیسے بھی نہیں بھیجے۔ اکثر اوقات اس کے بچوں کو بھوکے اور روتے ہوئے اسکول جانا پڑتا ہے اور اس کی کمزور اور بیمار بیوی کا خیال بھی انہیں ہی رکھنا پڑتا ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: امجد علی

DW.COM