1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

الٹی گنگا: پولیس کے ہاتھوں چالان کی بجائے سو سو ڈالر کے نوٹ

امریکی ریاست جارجیا میں بہت سے ڈرائیور اس وقت حیران رہ گئے جب مونرو کاؤنٹی میں پولیس اہلکاروں نے سڑک پر ایسے ڈرائیوروں کو روک کر، جو چالان ہو جانے کے خوف کا شکار تھے، سو سو ڈالر کے نوٹ تھمانے شروع کر دیے۔

ریاست جارجیا کی مونرو کاؤنٹی کے شہر فورسیتھ سے اتوار بیس دسمبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ کئی واقعات میں ایسا ہوا کہ پولیس نے گاڑی چلاتے ہوئے جن ڈرائیوروں کو روکا، ان کا خیال تھا کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہے اور ان کا چالان کر کے انہیں جرمانے کی رسید تھما دی جائے گی۔ لیکن ہوا یہ کہ ایسے جس بھی ڈرائیور کو روکا گیا، اس کے ہاتھ میں پولیس افسران نے چالان کی بجائے سو ڈالر کا ایک نوٹ تھما دیا۔

ایک مقامی اخبار ’ٹیلیگراف‘ نے بتایا کہ مونرو کاؤنٹی کی پولیس کے سربراہ جان کیری بِٹِک نے اپنے محکمے کے جونیئر افسروں کو سو سو ڈالر کے 54 نوٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تین دنوں کے عرصے میں یہ رقم کسی بھی ایسے شہری یا ڈرائیور کو دے سکتے ہیں، جسے وہ اس کا حقدار سمجھتے ہوں۔

اخبار کے مطابق پولیس چیف کو یہ رقم ایک ایسی سماجی شخصت نے دی تھی، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اور شرط یہ تھی کہ اسے لوگوں کی خوشی کے لیے استعمال کیا جائے۔

پولیس سربراہ کے بقول جس شخص نے انہیں یہ رقم دی، وہ اسی طرح کا ایک کام پہلے کہیں ہوتا دیکھ چکا تھا۔ جان کیری بِٹِک نے بتایا کہ اس شخص کا خیال تھا کہ پولیس اور عام شہریوں کے درمیان پورے امریکا میں پائی جانے والی کم اعتمادی اور عمومی کشیدگی کے پس منظر میں یہ ایک اچھا اقدام ہو سکتا تھا کہ لوگوں کی سوچ پر مثبت انداز میں اثر انداز ہوا جائے۔

کاؤنٹی اخبار ’ٹیلیگراف‘ کے مطابق پولیس افسران نے جن ڈرائیوروں کو روکا، وہ بظاہر پریشان نظر آنے والے ایسے شہری تھے، جنہیں ’خوشی کی ضرورت‘ تھی۔ چند ڈرائیور جنہیں یہ نقد رقم دی گئی، اتنے خوش ہوئے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے اسے اپنے لیے کرسمس کا تحفہ سمجھا۔

ایک پولیس افسر جان ٹامپسن نے کہا کہ انہوں نے ایک ایسی خاتون ڈرائیور کو بھی روکا تھا، جس نے رکتے ہی اور نقد رقم کے ممکنہ تحفے کا علم ہونے سے پہلے اس اہلکار کے ساتھ ’بد زبانی اور خفگی کا اظہار‘ کرنا شروع کر دیا تھا۔ جان ٹامپسن نے بتایا، ’’یہ خاتون سو ڈالر کے نوٹ سے محروم ہی رہی۔‘‘

DW.COM