1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

النصرہ فرنٹ کا ترک سرحد سے ملحقہ شامی علاقے سے انخلاء

شام میں فعال شدت پسند گروہ النصرہ فرنٹ نے کہا ہے کہ اس کے جنگجو ترکی کی سرحد کے قریب واقع ایسے علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں گے، جہاں انقرہ حکومت واشنگٹن کے ساتھ مل کر اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کو پسپا کرنا چاہتی ہے۔

پیر کے دن القاعدہ سے وابستہ اس اسلامی شدت پسند گروہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات ان کے مذہب کے خلاف ہے کہ وہ کسی ایسی مہم کا حصہ بنیں، جس میں امریکا بھی شامل ہو۔ یہ امر اہم ہے کہ النصرہ فرنٹ اور دیگر اسلام پسند گروہ شام میں انتہا پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف بھی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ النصرہ فرنٹ نے البتہ کہا ہے کہ دیگر جنگجو انقرہ اور امریکا کے ساتھ مل کر اس عسکری مہم میں شریک ہو سکتے ہیں۔

ترکی میں حملوں کے بعد انقرہ حکومت نے اپنی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی لاتے ہوئے نہ صرف شام میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جبکہ وہ شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں پر بھی بمباری کر رہی ہے۔

اسی دوران ترکی نے امریکا کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت ترکی اور شام کی سرحد کو جہادیوں سے خالی کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ترکی نے امریکی اتحادی فضائیہ کو اپنا ایک اہم ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔

النصرہ فرنٹ کے بیان کے مطابق اس کے جنگجو شمالی حلب سے واپس آنا شروع ہو چکے ہیں۔ اس شدت پسند تنظیم نے البتہ ترکی اور شام کی سرحد پر بفر زون کے قیام کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ترکی کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے نا کہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف کارروائی کرنا۔

امریکا اور ترکی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ ترکی اور شام کی سرحد پر فعال اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کو پسپا کر کے انہیں وہاں سے باہر نکال دیں گے تاکہ ان سرحدی علاقوں میں ایک غیر فوجی زون کا قیام ممکن ہو سکے۔ اس منصوبے کے عملدرآمد کے لیے امریکی تربیت یافتہ اعتدال پسند شامی باغیوں کو اسلامک اسٹیٹ کے خلاف عسکری کارروائی میں فضائی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

شام سے ملحق ترک سرحد پر اسلامک اسٹیٹ قابض ہے۔ امریکی اتحادی فضائیہ شمالی حلب کے ان علاقوں میں ان جہادیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اب ترکی کی مدد سے اس کارروائی میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

Al-Nusra Front Kämpfer an der Front bei Aleppo 25.11.2014

النصرہ فرنٹ کے جنگجو شمالی حلب سے واپس آنا شروع ہو چکے ہیں

شدت پسند گروہ النصرہ فرنٹ کے مطابق امریکا اور ترکی شامی جنگ کو اپنے مفادات کے تناظر میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، جس میں شام میں فعال گروہوں کی کوئی رضا شامل نہیں ہے۔ اس اسلامی جنگجو گروہ نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں بہتر ہے کہ اس کے حامی ترک سرحد سے ملحق شامی علاقوں سے نکل جائیں۔

تاہم القاعدہ سے وابستہ اس گروہ کے مطابق وہ شام میں دیگر محاذوں پر اسلامک اسٹیٹ کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھے گا۔ بتایا گیا ہے کہ النصرہ فرنٹ حما اور لبنان کے قریب واقع القلمون کے علاقوں میں جہادیوں کے خلاف طاقت جمع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔