1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

المکی کی شناخت کا عمل مکمل

پاکستان کے عسکری ذرائع نے کہا ہے کہ کراچی سے گرفتار کیا جانے والا یمنی شہری القاعدہ کا درمیانے درجے کا کارکن ہے۔ فوج نے اس کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

default

وزیرستان میں جنگجووں کا تباہ شدہ ایک ٹھکانہ

یمنی باشندے محمد علی قاسم یعقوبی عرف ابو صہیب المکی کو پاکستان کے مالیاتی کیپیٹل کراچی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ القاعدہ تنظیم کا فعال مگر درمیانی سطح کا لیڈر ہے۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد یہ پہلی اہم گرفتاری خیال کی گئی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کئی حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک اس یمنی شخص کو سکیورٹی حکام نے کراچی میں گرفتار کیا۔ پاکستانی فوج نے اس گرفتار یمنی کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار یمنی باشندے کا نام محمد علی قاسم یعقوبی ہے۔ یہ یمنی باشندہ انتہاپسند حلقوں میں ابو صہیب المکی کی عرفیت کے ساتھ مشہور تھا۔ المکی کے بارے میں یہ بھی بیان کیاگیا ہے کہ وہ پاک افغان سرحد پر براہ راست القاعدہ کی رہنمائی میں مصروف کار تھا۔

Abu Faradsch al-Liby El-Kaida-Führer in Pakistan gefasst

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ شیرپاؤ القاعدہ کے ایک رہنما اللبی کی تصویر دکھاتے ہوئے

دو مئی کے روز ایبٹ آباد میں القاعدہ کے مرکزی لیڈر اسامہ بن لادن کی خصوصی امریکی کمانڈوز کے آپریشن میں ہلاکت کے بعد ابو صہیب المکی کی گرفتاری کو خاصا اہم خیال کیا گیا ہے۔ اسامہ کی ہلاکت کے بعد المکی پہلا گرفتار ہونے والا اہم القاعدہ کا جنگ جو ہے۔ فوج کے انٹیلیجنس اہلکار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ کراچی سے گرفتار ہونے والا یمنی باشندہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے درمیان رابطے کا کام کرنے والے افراد میں شمار ہوتا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق المکی کراچی میں گزشتہ دو سالوں سے اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ مقیم تھا۔

ابو صہیب المکی کے کیس کے تفتیش کار کے مطابق وہ کراچی میں سعودی عرب کے مفادات کے خلاف فعال ہونے کی وجہ سے حالیہ سعودی سفارتکار پر حملے میں بھی ملوث ہو سکتا ہے۔ وہ کراچی کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی حملوں کی سازش میں شریک ہو سکتا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق گرفتار ہونے والا یمنی باشندہ ان دنوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان سے فرار کی کوشش میں تھا۔

ابو صہیب المکی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ قندھار کی جیل سے سن 2008 میں فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس وقت بارود سے بھرا ایک ٹرک جیل کی دیوار سے ٹکرایا گیا تھا اور اس جیل بریکنگ میں ایک ہزار قیدی بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق انتہاپسندوں سے تھا۔ المکی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد کا ماہر ہے۔ اس کی عمر پینتیس اور چالیس سال کے درمیان ہے۔ وہ انگریزی، اردو، عربی اور پشتو زبانیں روانی سے بولتا ہے۔

پاکستان کے سکیورٹی ماہرین نے المکی کی گرفتاری کو اہم قرار دیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس