1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’المبوح کی موت ایک اچھا واقعہ ہے‘: زپی لیونی

اسرائیل کی پارلیمانی لیڈر برائےحزب اختلاف نے حماس رہنما کے قتل کو سراہا ہے۔ سابق وزیر خارجہ زپی لیونی نے کہا ہے کہ محمود المبوح کی موت ایک اچھا واقعہ ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس واردات کے پیچھے کون ہے۔

default

اسرائیل میں حزب اختلاف کی رہنما زپی لیونی

بیس جنوری کو دبئی کے ایک ہوٹل میں حماس رہنما محمود المبوح کے قتل کے بعد پہلی مرتبہ کسی اعلیٰ اسرائیلی سیاستدان نے اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

اعتدال پسند جماعت کادیمہ سے تعلق رکھنے والی خاتون سیاستدان زپی لیونی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا: ’’ حقیقت یہ ہے کہ ایک دہشت گرد ہلاک ہوا ہے اور یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ وہ دبئی میں مارا گیا یا غزہ میں، دہشت گردی کے خلاف لڑنے والوں کے لئے یہ ایک اچھی خبر ہے۔‘‘

Mahmoud al Mabhouh Hamas Portrait

محمود المبوح حماس جنگجو دھڑے کے بانیوں میں سے تھے۔

زپی لیونی خود بھی 1980ء میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد میں کام کر چکی ہیں۔

دبئی پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا ہاتھ ہے، تاہم اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ دبئی پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس قتل کے لئے یورپی ممالک جرمنی ، فرانس، آئر لینڈ اور فرانس کے جعلی پاسپورٹس استعمال کئے گئے تھے۔ اسی اثناء مذکورہ یورپی ممالک نے اس واقعے میں جعلی پاسپورٹس کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM