1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ کے خلاف فوجی آپریشنز، اماراتی اور امریکی فوجی اکھٹے

جنوبی یمن میں متحرک القاعدہ کی شاخ کے خلاف جاری آپریشنز میں شریک اماراتی فوجیوں کو امریکی معاونت حاصل ہے۔ تعاون کے اس عمل میں امریکی فوج کے خصوصی دستے شریک ہیں۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ترجمان نیوی کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ یمن میں القاعدہ کی قوت کو کم سے کم کرنے کے عمل میں امریکی فوج نے اماراتی فوج کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہوا ہے۔ ڈیوس کے مطابق اس کا مقصد القاعدہ کی شاخ کی منظم دہشت گردانہ کارروائیوں کو قابواور منصوبہ بندی کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

یمن: خفیہ جیلوں میں امریکا اور یو اے ای کا تشدد اور تفتیش

القاعدہ کے نائب سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق

یمن میں القاعدہ کے خلاف ’طویل ترین‘ مسلسل امریکی فضائی حملے

یمن میں امریکی فوج کا حملہ، چالیس سے زائد جنگجو ہلاک

جمعہ چار اگست کو امریکی وزارت دفاع نے اس کی تصدیق کی تھی کہ خصوصی فوجی دستے یمن میں متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کے عسکری آپریشنز میں معارنت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے، جن کا مقصد القاعدہ کے جہادیوں کی بیخ کنی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ جنوبی یمن میں القاعدہ کی ذیلی شاخ AQAP خاصی سرگرم ہے اور یہ مسلسل جہادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی سرگرمیوں کا علاقہ شبوہ صوبہ ہے۔

امریکا کا خیال ہے کہ یمن میں متحرک القاعدہ کی شاخ AQAP انتہائی خطرناک ہے اور یہ القاعدہ کے دہشت گردانہ نیٹ ورک کا سب سے خوفناک حصہ ہے۔ امریکا کی جانب سے AQAP پر ڈرونز کے حملے بھی گاہے گاہے کیے جاتے ہیں اور ایک دو مرتبہ امریکی فوج نے چھاپے مار کر مخصوص علاقے میں عسکری کارروائی بھی کی ہے۔

Jemen USA Karte und Flagge Symbolbild (AP Graphics)

رواں برس اٹھائیس فروری کے بعد سے جہادیوں پر اب تک امریکا نے 80 حملے کیے ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ رواں برس اٹھائیس فروری کے بعد سے جہادیوں پر اب تک امریکا نے 80 حملے کیے ہیں۔ ٹرمپ کے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد امریکی فوجیوں نے بیدا صوبے کے ایک علاقے میں ایک بڑا زمینی آپریشن بھی کیا تھا۔ بیدا کا علاقہ یمنی صوبے مارب کے جنوب میں واقع ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فوج کو جو حمایت و تعاون  حاصل ہے، وہ رواں برس جنوری سے شروع ہے۔ ترجمان کے مطابق ان عسکری آپریشنز میں امریکی فوج کی ایک قلیل تعداد شریک ہے جو اماراتی فوج کے زمینی دستوں کو خفیہ معلومات اور عسکری عمل میں صرف تعاون فراہم کرتی ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے اس سے انکار نہیں کیا کہ عملی جنگ میں ان امریکی فوجیوں کی شرکت ہو سکتی ہے۔

امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ القاعدہ کے خلاف جاری آپریشنز میں امریکی اور اماراتی فوجی قریبی رابطہ کاری اور تعاون رکھتے ہیں۔

 

DW.COM