1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

القاعدہ کے خلاف جنگ: کمپیوٹر پروگرا م کی تیاری

امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں اب سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ’فیس بک‘ کی طرز پر ایک سافٹ ویئر پروگرام تیار کر رہی ہیں۔

default

دہژت گردوں کا پتہ لگانے کے لئے' فیس بک' کی طرز پر ڈیٹابیس سافت ویئر تیار کیا جا رہا ہے

اس ڈیٹا بیس پروگرام میں مطلوبہ دہشت گردوں سے متعلق معلومات، مشتبہ اور زیر حراست افراد سے زیر تفتیش حاصل کئی گئی چھوٹی سے چھوٹی انفارمیشن تک شامل ہوگی۔ اس کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے دہشت گردوں کو تلاش کرنے، ان کے مشتبہ افراد سے رابطوں اور ممنکہ منصوبوں کو جانا جاسکے گا۔

اس پروگرام سے حاصل کی جانے والی حساس معلومات کے ذریعے دہشت گردانہ منصوبوں کی قبل از وقت پیشن گوئی بھی کی جا سکے گی۔ امریکی حساس ادارے اس نئے پروگرام کو القاعدہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کی جنگ میں ایک نئے محاذ سے تعبیر کررہے ہیں۔ امریکی فوجی حلقوں میں القاعدہ کے خلاف اس نئے خیال کو حساس معلومات سے متعلق ’موزائک فلاسفی‘ کا نام دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس پروگرام کا بنیادی آئیڈیا دہشت گردوں سے متعلق چیدہ چیدہ معلومات کو مشتبہ افراد سے حاصل کی گئی انفارمیشن کے ساتھ جوڑنے اور پھر دہشت گردوں تک پہنچے کا نام ہے۔

Pentagon Logo

امریکی وزارت دفاع میں اس نئے خیال کو 'موزائک فلاسفی' کہا جاتا ہے

امریکی وزارت دفاع نے اس ڈیٹا پروگرام کی ریسرچ اور تیاری کے لئے بہترین کمپیوٹر ماہرین کی مدد حاصل کی ہے۔ ان کمپیوٹر ماہرین میں سے ایک امریکی ریاست پینسلوانیا کی شہر پٹسبرگ میں قائم کارنیگی میلن یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھلین کارلے بھی ہیں۔ اس پروگرام کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ فیس بک کی طرز پر تیار کئے جانے والے اس ڈیٹا پروگرام سے معلومات حاصل کرکے کمپیوٹر خود بخود حساب کتاب لگا لے گا کہ دنیا بھر میں کون کون سے مشتبہ افراد انٹرنیٹ کو استعمال کرکے دہشت گردی کی غرض سے اپنے رابطے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام میں استعمال کئے گئے الگوریتھمز کی مدد سے کسی ممکنہ حملے کی پیسین گوئی بھی ممکن ہوسکے گی۔

ماہرین کے مطابق اس قسم کے ڈیٹا پروگرام سے عام لوگوں کی ذاتی زندگی میں حساس اداروں کی دخل اندازی بڑھنے کا امکان ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق یہ پروگرام انسانی حقوق کے خلاف بھی استعمال ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین اس امر کی مثال افغانستان اور عراق میں ان مشتبہ افراد کی گرفتاری سے دیتے ہیں جن کا بلا واسطہ اور بالواسطہ طور پر کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے تعلق نہیں ہے۔ اس کے باوجود حساس اداروں نے ان کو گرفتار کرکے تفتیش کی، تاکہ ان سے ممکنہ معلومات حاصل کی جاسکیں۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: عاطف توقیر