1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ کو بن لادن کے بعد کے دور میں جدوجہد کا سامنا

سال دو ہزار گیارہ دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے لیے اس لحاظ سے بہت تکلیف دہ سال رہا کہ اُسے پانچ ماہ کے اندر اندر اپنے دو مرکزی رہنماؤں سے محروم ہونا پڑا۔

default

بن لادن الظواہری کے ساتھ، فائل فوٹو

دو مئی کو القاعدہ کا بانی سربراہ اسامہ بن لادن پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں اپنی خفیہ رہائش گاہ پر امریکی فوجی کمانڈوز کی کارروائی میں مارا گیا۔ تیس ستمبر کو انور العولقی یمن میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔ العولقی امریکہ میں پیدا ہوا تھا اور وہ شدت پسندانہ سوچ کا حامل ایک ایسا شعلہ بیان مبلغ تھا جسے القاعدہ کا ایک روحانی رہنما بھی سمجھا جاتا تھا۔ یمن میں کی گئی کارروائی میں العولقی کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے اس شدت پسند رہنما کی موت کو دہشت گردوں کے نیٹ ورک القاعدہ کے لیے بہت بڑا دھچکہ قرار دیا تھا۔

مئی میں بن لادن کی موت کے بعد یہ سوال اٹھا تھاکہ اب اس دہشت گرد نیٹ ورک کی قیادت کون کرے گا۔ اس کا جواب ایمن الظواہری کی شخصیت کی صورت میں سامنے آیا جسے القاعدہ نے جون میں بن لادن کا جانشین اور اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا۔ الظواہری کا تعلق پیدائشی طور پر مصر سے ہے اور وہ کئی سال تک آنکھوں کے سرجن کے طور پر بھی کام کرتا رہا ہے۔

القاعدہ کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ نیٹ ورک خود کو ابھی بھی بہت فعال اور مؤثر ثابت کر سکتا ہے اور کیا الظواہری کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ القاعدہ نیٹ ورک کو ایک گروپ کے طور پر متحد رکھ سکے۔ الظواہری کا یہ کام بظاہر اور بھی مشکل ہو چکا ہے۔ اس کا سبب عرب ملکوں میں عوامی احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں آنے والی وہ سیاسی اور حکومتی تبدیلیاں ہیں جنہیں عرب اسپرنگ کا نام دیا جاتا ہے۔

ehemaliges Haus von Osama Bin Laden FLASH-GALERIE

افغان صوبے ہرات میں بن لادن کا ایک سابقہ گھر، فائل فوٹو

عرب ملکوں میں سیاسی تبدیلیوں کی یہ لہر سال رواں کے عالمی نوعیت کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ عرب ریاستوں میں تبدیلی کی اس لہر میں شروع میں اگر القاعدہ نے کوئی کردار ادا کیا بھی تھا تو وہ بہت کم تھا۔ الظواہری جس کی عمر اس وقت ساٹھ سال ہے، عرب ملکوں میں تبدیلی کی اس لہر کی کئی مرتبہ تعریف کر چکا ہے۔

اس کا مطلب سیاسی انقلاب سے گزرنے والے عرب معاشروں میں موجودہ صورتحال سے اپنے حق میں فائدہ اٹھانا ہے۔ تیرہ ستمبر کو الظواہری نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں عرب اسپرنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ القاعدہ عرب ملکوں میں عوامی انقلابات کی حمایت کرتی ہے اور اسے امید ہے کہ تبدیلی سے گزرنے والے ملکوں میں حقیقی اسلام نافذ کیا جا سکے گا۔

لیکن بہت سے لوگوں کے لیے عرب ملکوں میں تبدیلی کی یہ لہر القاعدہ کے لیے کسی فائدے کا باعث بننے کی بجائے اپنے ہی راستے پر آگے بڑھ چکی ہے۔ اس طرح اب یہ سوالات بھی کافی زیادہ اٹھنے لگے ہیں کہ القاعدہ کا مستقبل کیا ہو گا۔ الظوہری کو اکثر القاعدہ کا سب سے بڑا نظریہ ساز رہنما سمجھا جاتا ہے۔

NO FLASH Osama bin Laden Haus

ایبٹ آباد میں بن لادن کا گھر جہاں وہ امریکی کمانڈوز کی کارروائی میں مارا گیا

گزشتہ چند برسوں کے دوران اس نے القاعدہ کے مرکزی ترجمان کے طور پر اپنے درجنوں آڈیو اور ویڈیو پیغامات جاری کیے۔ ان پیغامات میں سے اپنے تازہ ترین پیغام میں الظواہری نے کہا کہ عرب ملکوں میں عوامی انقلاب بھی امریکہ کے لیے اسی طرح کی ناکامی ہیں جس طرح کی ناکامی واشنگٹن کو گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کی صورت میں برداشت کرنا پڑی تھی یا جس طرح کی ناکامی یا ’کامیابی کی عدم موجودگی‘ امریکہ کو ’عراق اور افغانستان میں‘ دیکھنا پڑ رہی ہے۔

اس سلسلے میں الظواہری کے چند تازہ بیانات کو ماہرین تعلقات عامہ میں بہتری کی ایک ایسی کوشش قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے یہ دہشت گرد گروپ اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ عرب دنیا میں رونما ہونے والے واقعات میں اس کے لیے بھی کوئی نہ کوئی جگہ بن جائے۔

امریکہ کو امید ہے کہ بن لادن اور القاعدہ کے کئی دیگر مرکزی یا اہم رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد آج واشنگٹن القاعدہ نیٹ ورک کو شکست دینے کے قریب تر پہنچ چکا ہے۔ یہی بات امریکی صدر باراک اوباما نے دس اکتوبر کو اپنے ایک خطاب میں کہی تھی جب امریکہ کی سربراہی میں افغانستان کی جنگ کے ٹھیک دس سال پورے ہو گئے تھے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: حماد کیانی

DW.COM