1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ کا خونریز حملہ: اٹھارہ ملکوں کے درجنوں شہری ہلاک

مغربی افریقی ملک برکینا فاسو میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے ایک خونریز حملے میں اٹھارہ ملکوں کے درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔ حملہ آوروں نے ایک لگژری ہوٹل اور ایک ریستوراں میں قریب ڈیرھ سو افراد کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔

یہ حملہ مسلم اکثریتی افریقی ملکوں میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی علاقائی شاخ AQIM کے مسلح شدت پسندوں نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کیا تھا، جس دوران انہوں نے پہلے برکینا فاسو کے دارالحکومت واگاڈوگو میں ایک ریستوراں پر حملہ کیا اور متعدد افراد کو ہلاک کرنے کے بعد ملحقہ Splendid لگژری ہوٹل میں داخل ہو کر 140 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

DW.COM

آج ہفتہ سولہ جنوری کو واگاڈوگو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس حملے کے فوراﹰ بعد ملکی فوجی دستوں کی مدد کے لیے ہمسایہ ملک مالی سے درجنوں کی تعداد میں فرانسیسی فوجی دستے بھی واگاڈوگو پہنچ گئے تھے۔

ہفتے کی صبح طلوع آفتاب سے پہلے حکام کو Splendid لگژری ہوٹل سے متصل ریستوراں سے کم از کم دس ہلاک شدگان کی لاشیں ملیں اور ساتھ ہی یہ عسکری کوششیں بھی جاری رہیں کہ کسی طرح ہوٹل کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا کے یرغمالیوں کو رہا کرا لیا جائے۔

اس دوران حملہ آوروں اور سکیورٹی دستوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہا اور یہ اطلاعات بھی تھیں کہ دہشت گردوں نے ہوٹل کے مختلف حصوں میں بم نصب کر دیے ہیں۔ مقامی سکیورٹی دستوں اور فرانسیسی فوجیوں کی مشترکہ کوششوں سے صبح سویرے ہی بہت سے یرغمالیوں کو ہوٹل سے بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

بعد میں برکینا فاسو کے وزیر داخلہ سائمن کامپااورے نے قبل از دوپہر اعلان کیا کہ ہوٹل پر قبضہ کرنے والے تمام دہشت گرد مارے گئے ہیں اور 126 یرغمالیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔

اس خونریزی میں چاروں حملہ آور جہادیوں کے علاوہ 23 دیگر افراد بھی مارے گئے، جن کا تعلق برکینا فاسو کی حکومت کے مطابق 18 مختلف ملکوں سے تھا۔ زخمیوں کی تعداد 33 بتائی گئی ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ مرنے والوں کا تعلق اتنے زیادہ مختلف ملکوں سے اس لیے ہے کہ ان کی اکثریت واگاڈوگو کے اس 147 کمروں والے ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھی، جو شہر کے سب سے بڑے اور مہنگے ہوٹلوں میں شمار ہوتا تھا۔

اس خونی ڈرامے کے اپنے انجام کو پہنچ جانے کے بعد برکینا فاسو کے صدر کابورے نے نیشنل ریڈیو پر کہا، ’’مجموعی طور پر چار شدت پسند مارے گئے ہیں، ان میں سے تین جہادی Splendid ہوٹل میں مارے گئے۔ ان تین حملہ آوروں میں سے دو خواتین تھیں۔‘‘

حکام کے بقول ان تین جہادیوں میں سے ایک عرب نژاد باشندہ تھا اور دو مقامی عسکریت پسند۔ سکیورٹی فورسز کے مطابق مارا جانے والا چوتھا جہادی وہ تھا، جو ایک دوسرے قریبی ہوٹل میں مسلح دستوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔

اس حملے کی ’اسلامک مغرب میں القاعدہ‘ نامی دہشت گرد تنظیم AQIM نے ذمے داری قبول کر لی ہے۔ یہ شدت پسند گروہ دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی ایک افریقی شاخ ہے۔ آن لائن انٹیلیجنس گروپ SITE کے مطابق اس حملے کے کچھ ہی دیر بعد اے کیو آئی ایم نامی جہادی تنظیم نے عربی زبان میں جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے واگاڈوگو کے سب سے بڑے ہوٹل میں سے ایک پر حملہ کر کے بہت سے ’صلیبیوں‘ کو ہلاک کر دیا ہے۔

مسلم اکثریتی آبادی والا ملک برکینا فاسو خطے میں سر اٹھانے والی دہشت گردی کے باوجود گ‍زشتہ برسوں کے دوران ایسے حملوں سے محفوظ رہا تھا۔ وہاں کل رات شروع ہو کر آج ختم ہونے والا جہادیوں کا یہ حملہ اس ملک میں آج تک کی سب سے ہلاکت خیز دہشت گردانہ کارروائی ثابت ہوا۔