1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

القاعدہ کا اہم رہنما ڈرون حملے میں ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے میں مبینہ امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں القاعدہ کا ایک اعلیٰ رہنما ہلاک ہو گیا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں میں کیا گیا۔

default

بغیر پائلٹ والا ڈرون طیارہ

حکومت پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری کئے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بغیر پائلٹ کے طیارے سے کئے گئے اس حملے میں القاعدہ نیٹ ورک کے پاکستان اورافغانستان کے لئے آپریشنل کمانڈر شیخ فاتح کے علاوہ ان کے تین ساتھی بھی مارے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ شیخ فاتح کو مصطفیٰ ابو الیزید کی جگہ یہ عہدہ سونپا گیا تھا، جو اکیس مئی کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

اگرچہ شیخ فاتح کا نام امریکہ کی مطلوب افراد کی فہرست میں نہیں ہے تاہم پاکستان میں مبصرین نے کہا ہے کہ القاعدہ کے کسی بھی اعلیٰ رہنما کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک کامیابی ہے۔

پاکستانی حکام نے بتایا کہ مصری نژاد شیخ فاتح ہفتہ کو ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے AFP کو بتایا،’ ہاں، وہ مارا گیا ہے۔‘ ایک اور سکیورٹی اہلکار نے شیخ فاتح کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسے مقامی سطح پرعبدالرزاق کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا، ’ فاتح کے ساتھ اس کے دو مقامی ساتھی بھی تھے، جن کی شناخت حاجی نیاز اور نعمت اللہ کے نام سے کی گئی ہے۔ یہ لوگ پچیس ستمبر کو ہونے والےایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔‘

دریں اثناء منگل کو ہوئےایک اورمبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں چار شدت پسند ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ حملہ بھی شمالی وزیرستان میں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں وانا کے نزدیک افغان سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں میں ایک مشکوک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی لوگوں نے خبررساں اداروں کو بتایا ہے کہ منگل کی شام ہونے والے اس حملے کے بعد طالبان باغیوں نے علاقے کی ناکہ بندی کردی اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی۔

US Drone Predator Flash-Galerie

نئی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے

دوسری طرف وال سٹریٹ جنرل نے کہا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے پاکستانی شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ وہ افغانستان میں در اندازی نہ کر سکیں۔ ستمبر کے دوران پاکستانی قبائلی علاقوں پر بیس سے زائد ڈرون حملے کئے گئے ہیں ، جو کسی بھی ایک ماہ میں کئے گئے حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اگست سن 2008ء سے تقریباﹰ 140 ڈرون حملوں کے نتیجے میں ، ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک کم ازکم ایک ہزار ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں القاعدہ نیٹ ورک کے کئی اہم رہنما بھی بتائے جاتے ہیں، جن میں پاکستانی طالبان باغیوں کے سابق رہنما بیت اللہ محسود کا نام نمایاں ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM